انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 86

۸۶ ہم اتفاق پر محمول کر لیتے- لیکن یہاں تو دس نہیں‘ بیس نہیں‘ سینکڑوں‘ ہزاروں واقعات اسی قسم کے ہیں- اب کہاں تک انہیں اتفاقیہ امر سمجھیں- جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام دہلی تشریف لائے تھے تو لکھنؤ کا ایک مولوی ایک دن آپ کے مکان پر آیا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام اس وقت کھانا کھا رہے تھے- خادم نے کہا آپ ٹھہریئے حضرت صاحب کھانا کھا رہے ہیں- اس مولوی نے کہا نہیں انہیں کہو کہ ایک پولیس آفیسر باہر کھڑا ہے اور وہ ابھی بلاتا ہے- حضرت صاحب نے یہ سن لیا اور خود ہی باہر تشریف لے آئے- اتفاق سے اس وقت آپ کا پاؤں ایک مقام پر پھسل گیا اس پر اس نے تمسخر کیا کہ اچھے مسیح ہیں کہ پولیس آفیسر کے ڈر سے پاؤں پھسل گیا- لیکن ابھی تین دن بھی نہیں گذرے تھے کہ وہ خود چھت کے زینہ سے گر کر مر گیا اور خدا نے اسے بتا دیا کہ خدا کے انبیاء کے ساتھ تمسخر کا کیا نتیجہ ہوتا ہے- بہت سے لوگ ایسے تھے جو کہتے تھے مرزا صاحب کو کوڑھ ہو جائے گا- خدا نے انہیں ہی کوڑھ میں مبتلاء کر دیا- بہت کہتے تھے مرزا صاحب کو طاعون ہو جائے گا- خدا نے یہ کہنے والوں کو طاعون سے ہلاک کیا- جب ہزاروں مثالیں اسی قسم کی موجود ہیں تو ہم کہاں تک انہیں اتفاق پر محمول کریں- پس اپنے اندر ایسی پاک تبدیلی پیدا کرو کہ دنیا اسے محسوس کرے- تمہاری حالت یہ ہو کہ تمہارے تقویٰ و طہارت‘ تمہاری دعاؤں کی قبولیت اور تمہارے تعلق باللہ کو دیکھ کر لوگ اس طرف کھنچے چلے آویں- یاد رکھو کہ احمدیت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے ذریعہ سے ہوگی اور اگر آپ لوگ اس مقام پر یا اس کے قریب تک ہی پہنچ جائیں تو پھر اگر آپ باہر بھی قدم نہ نکالیں گے بلکہ کسی پوشیدہ گوشہ میں بھی جا بیٹھیں گے تو وہاں بھی لوگ آپ کے گرد جمع ہو جائیں گے- (الفضل ۴ جون ۱۹۳۱ء) ۱؎ بخاری کتاب الرد علی الجھمیہ وغیرھم التوحید باب قول اللہ ویحذرکم اللہ نفسہ ۲؎ ملفوظات جلد۴ صفحہ۱۲۵- جدید ایڈیشن