انوارالعلوم (جلد 12) — Page 43
۴۳ بھی اس کے مثیل کے ساتھ تعلق انسان کو بلند ترین مقامات پر پہنچانے کا موجب ہوا ہے اور ہو گا- ہاں خدا تعالیٰ کی بادشاہت ایک چور کی طرح آتی ہے- ۳؎اور اس وجہ سے شروع شروع میں اس کے خادموں سے چوروں والا ہی سلوک کیا جاتا ہے- وہ ذلیل سمجھے جاتے ہیں اور انہیں دکھ دیا جاتا ہے اور تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں اور دنیا سمجھ لیتی ہے کہ اب وہ یقیناً نیست و نابود ہو جائیں گے اور ان کا نام تک مٹ جائے گا- لیکن وہ نہیں جانتی کہ حقیقی عزت کے وہی لوگ مستحق ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کیلئے ذلت کو برادشت کرتے ہیں اور آسمانی تخت پر وہی لوگ بٹھائے جاتے ہیں جو صلیب پر لٹکائے جانے کیلئے تیار ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ابدی بادشاہت کا تاج انہی کے سر پر رکھا جاتا ہے کہ جو کانٹوں کا تاج پہننے کیلئے آمادہ ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی محبت کا جام انہی کو ملتا ہے جن کے ہونٹ بدگوئی اور لعنت کے تیز اور تلخ سرکہ سے آشنا ہو چکے ہوتے ہیں- اور درحقیقت ابدی زندگی خدا تعالیٰ کی راہ میں مر جانے کا ہی نام ہے کیونکہ جو اس راہ میں مرتے ہیں اس کی غیرت انہیں پھر کبھی مرنے نہیں دیتی- اور یہ دروازہ جس طرح آج سے انیس سو سال پہلے کھلا تھا آج بھی کھلا ہے- مبارک وہ جو اس دروازہ سے داخل ہوتا ہے- مبارک وہ جو ‘’ہوشعنا’‘ ۴؎کہتے ہوئے خدا کے برگزیدہ کو قبول کرتا ہے- مبارک وہ جو خدا کی بادشاہت میں اس وقت داخل ہوتے ہیں جب دنیا داروں کی نگاہ میں وہ ایک دوزخ کی شکل میں ظاہر ہو رہی ہوتی ہے کیونکہ وہی اپنے باپ کے دائیں اور بائیں تخت پر بٹھائے جائیں گے اور اس کی بادشاہت میں انہی کو حصہ دیا جائے گا- یورایکسیلنسی! آسمانی قانون دنیوی قانون سے مختلف ہوتا ہے- آسمانی قانون میں تمثیلوں میں کلام کیا جاتا ہے تا راستباز اور متکبر کا امتحان کیا جائے اور سچے اور جھوٹے کا تعلق ظاہر کیا جائے- ہر اک کو جو خدا تعالیٰ سے سچی محبت رکھتا ہے آسمانی نور دیا جاتا ہے تا وہ اس نور کی روشنی میں سچائی کی راہ کو معلوم کرے مگر جو لوگ دل کے کھوٹے ہوتے ہیں وہ لفظوں کے پردوں میں چھپ جاتے ہیں اور اس وقت جب کہ خدا کا جلال عریان ہو کر سامنے آتا ہے وہ اپنی آنکھوں پر عبارتوں کا نقاب ڈال لیتے ہیں تب ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جس کے وہ مستحق تھے- لفظ ان کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں اور معنی ان کے- جنہوں نے معنوں پر نگاہ کی اور اس امر کو یاد رکھا کہ پہلے نوشتوں میں لکھا گیا تھا کہ وہ تمثیلوں میں کلام کرے گا- اور اس میں کیا شک ہے کہ تمثیلی کلام اس زمانہ کے لوگوں کیلئے نہیں بلکہ بعد میں آنے والے لوگوں