انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 602

۶۰۲ ہمیں تکلیف ہوتی ہے اسی طرح اس کو بھی ہوتی ہے جس کا روپیہ دینا ہوتا ہے‘ تو پھر لین دین کے معاملات میں اتنی مشکلات نہ رونما ہوں- اگر کسی کے لئے آمدنی کی بالکل کوئی صورت نہیں تو اور بات ہے ایسی حالت میں لینے والے کو بھی اس پر رحم کرنا چاہئے لیکن اگر کچھ نہ کچھ آمدنی ہو اور وہ اپنے اوپر تو خرچ کی جائے لیکن جس کا قرض دینا ہو اسے کچھ نہ دیا جائے تو یہ بہت بڑا گناہ ہے- شریعت نے معاہدات کی پابندی نہایت ضروری قراردی ہے- پابندی اختیار نہ کرنے والوں کی وجہ سے ضرورت مند اور وعدہ کا ایفا کرنے والوں کو بھی کوئی قرض نہیں دیتا- رسول کریم ﷺ معاہدات کی اس قدر پابندی کرتے تھے کہ جب آپ جنگ بدر کے لئے تشریف لے گئے تو صرف تین سو سپاہی آپ کے ساتھ تھے- اس وقت دو مسلمان مکہ سے بھاگ کر آپ کے لشکر میں آ ملے- جو بڑے جری اور بہادر تھے- تین سو کی تعداد کے لحاظ سے ان دو کی شمولیت بہت بڑی امداد تھی لیکن جب انہوں نے کہا کہ جس وقت ہم آ رہے تھے اس وقت کفار نے ہمیں پکڑ لیا تھا اور پھر اس عہد پر چھوڑا کہ ہم ان کے مقابلہ پر نہ لڑیں گے مگر وہ کفار تھے ان سے معاہدہ کیا‘ حقیقت رکھتا ہے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا- نہیں اس کی پابندی ضروری ہے اور ان کو لڑائی میں شامل ہونے کی اجازت نہ دی-۱۰؎ اسی طرح رسول کریم ﷺ کے ایک داماد جب مسلمان ہو گئے تو وہ مکہ گئے اور جن کا مال ان کے پاس تھا ان سب کو واپس دے کر پھر آئے- انہوں نے کہا- میں اگر چاہتا تو مدینہ میں ہی رہ جاتا مگر میں اس لئے آیا کہ تم یہ نہ کہو مسلمان ہو گیا ہے اور دیانت سے کام نہیں لیا-۱۱؎ تو معاہدات کو نہایت تکلیف اٹھا کر بھی پورا کرنا چاہئے حتی کہ موت قبول کر کے بھی پورا کرنا چاہئے تا کہ جماعت کی اقتصادی حالت درست ہو- دوسری بات یہ ضروری ہے کہ مال میں خواہ ذرا سا بھی نقص ہو‘ تاجر کو چاہئے خریدار کو بتا دے تا کہ بعد میں کوئی جھگڑا نہ پیدا ہو- اس طرح نقصان نہیں ہوتا بلکہ فائدہ ہی رہتا ہے- جب انسان دھوکا کی چیز بیچنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا تو مال خریدتے وقت خود بھی احتیاط نہیں کرتا لیکن اگر ناقص چیز گاہک اس سے نہ خریدے تو اسے خود بھی احتیاط کرنی پڑے گی- پھر معاملہ کی صفائی سے ایک قومی کیریکٹر بنتا ہے جو ساری قوم کے لئے نہایت مفید ہوتا ہے- تعلیم و تربیت ایک اور ضروری معاملہ تعلیم و تربیت ہے- عام طور پر لوگ بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ نہیں کرتے- سینکڑوں بچے ایسے ہیں خدا تعالیٰ