انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 601

۶۰۱ ایک نتیجہ تو یہ ہوتا ہے کہ شادی ہونے میں دیر لگتی ہے- لڑکی والوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کتنا زیور اور کتنا کپڑا دیا جائے گا- اگر یہ چیزیں ان کی منشاء کے مطابق نہ ہوں تو رشتہ نہیں کیا جاتا- ایسے لوگوں کی مثال اس پیر کی سی ہوتی ہے جو اپنے ایک مرید کے گھر گیا اور کہنے لگا- دیکھو! کسی قسم کا تکلف نہ کرنا- پلاؤ تو آپ پکائیں گے ہی اور ملک کا دستور ہے ساتھ زردہ بھی ہو‘ کچھ حلوا بھی پکا لینا- اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں- ہم احمدی ہیں ہم نے سب رسمیں چھوڑ دی ہیں مگر اتنا ضرور ہو کہ کم از کم آٹھ سو کا زیور اور چھ سو کا کپڑا بنا لیا جائے- ہم نے رشتہ دار چھوڑے اپنی قوم کو چھوڑا‘ کیا اب بھی ہم تکلف کریں- گویا ان کے نزدیک اتنے زیور اور کپڑے کا مطالبہ تکلف نہیں ہوتا- شادی کے موقعہ پر زیور اور کپڑے بطور تحفہ ہوتے ہیں- کوئی شخص یہ بے حیائی نہ کرتا ہو گا کہ کسی سے تحفہ مانگ کر لے مگر شادی بیاہ کے متعلق چونکہ یہ عادت ہو گئی ہے‘ اس لئے اس کا حسن و قبح نہیں دیکھا جاتا- اگر کسی شخص سے کہو‘ فلاں دوست سے جا کر کہے مجھے تحفہ کے طور پر کشمیر کی شال منگا دیجئے یا اوورکوٹ بنوا دیجئے تو وہ کہے گا کیا تم مجھے ایسا بے حیا سمجھتے ہو کہ میں اس قسم کی بات کہوں- مگر لڑکی کے رشتہ کے سلسلہ میں زیور کپڑا وغیرہ کا مطالبہ کرنے میں وہ یہی کرتا ہے اور اپنی لڑکی کے نام پر کرتا ہے یہ نہایت ہی شرمناک بات ہے- اس طرح بیاہ شادی میں روکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور لڑکے لڑکی کی جوانی اور ان کے جذبات کو تباہ کیا جاتا ہے- کفو کا خیال ضروری ہے مگر اس کی حد بندی ہے اور وہ یہ کہ اپنی حیثیت کے قریب قریب کے خاندان میں رشتہ کر لیا جائے نہ کہ اپنے سے بہت اعلیٰ خاندان تلاش کیا جائے- اس قسم کی سختیوں کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ بیاہ شادی کی مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں- چونکہ ہماری جماعت کے لوگ ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے پہلے ہی رشتوں کا پتہ نہیں لگتا اور اگر کسی جگہ پتہ لگے تو پھر اس قسم کے سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ لڑکے کی تنخواہ کیا ہے‘ جائیداد کتنی ہے‘ زیور کتنا ہو گا‘ کپڑا کتنا- اگر یہ باتیں اپنی خواہش اور منشاء کے مطابق نہ ہوں تو انکار کر دیا جاتا ہے- اس قسم کی باتیں عیب ہیں اور ان کی اصلاح نہایت ضروری ہے- جو لوگ خدا تعالیٰ کا توکل چھوڑ کر ایسی باتیں کرتے ہیں‘ خدا تعالیٰ بھی ان کی تجاویز میں برکت نہیں ڈالتا اور ہمیشہ ان میں لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں- ‏ معاملات کی صفائی اور معاہدات کی پابندی ایک اور اہم بات معاملات کی صفائی ہے- اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ جس طرح