انوارالعلوم (جلد 12) — Page 589
۵۸۹ وقت بعض لوگ حیران ہو گئے کہ اب کیا ہوگا- مگر ایک مہینہ کے اندر اندر حالات بالکل بدل گئے اور وہ لوگ جو سختی کرنے والے تھے ریاست سے نکلوا دیئے گئے- پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اپنے ہاں جا کر اس کام کو پہلے سے بھی زیادہ توجہ اور کوشش سے کریں اور کم از کم اڑھائی تین ہزار روپیہ ماہوار چندہ جمع کرنے کی کوشش کریں اور کم از کم اڑہائی تین ہزار روپیہ ماہوار چندہ جمع کرنے کی کوشش کریں- دو ڈیڑھ سال تک غالباً اسے جاری رکھنے کی ضرورت ہوگی اس وقت تک جاری رکھا جائے- سلطنت مغلیہ کا آخری دور اور مسلمانوں کی حالت اب میں سیاسی حالت کی طرف آتا ہوں- موجودہ زمانہ ہندوستان میں ایسا ہی ہے جیسا کہ حکومت مغلیہ کے آخر میں آیا تھا- اس وقت ایک طرف سے سکھ اٹھے اور دوسری طرف سے مرہٹے جنہوں نے مسلمانوں کو جو خانہ جنگیوں اور بے انتظامیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکے تھے کچل کر رکھ دیا اور پنجاب میں تو سکھوں نے حد ہی کر دی ان کے دور میں کہیں اذان نہ دی جاتی تھی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے- امرتسر میں کسی سکھ نے ایک مسلمان کو خط دیا کہ پڑھ دو- اس وقت سکھ کی قابلیت یہ سمجھی جاتی تھی کہ وہ پڑھا ہوا نہ ہو اور سکھ مختلف بہانوں سے لوگوں سے خط پڑھواتے تا کہ اگر کوئی پڑھ دے تو یہ اس کے مسلمان ہونے کی علامت ہوگی اور اسے مار دیا جائے- جسے خط پڑھنے کیلئے دیا گیا اس نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں- سکھ نے کہا- نہیں- ضرور پڑھ دو- اس نے کہا- میں بالکل نہیں پڑھا ہوا- سکھ نے کہا- اگر تم پڑھے ہوئے نہیں تو یہ بالکل کا لفظ کہاں سے سیکھ لیا تم ضرور پڑھے ہوئے ہو یہ کہہ کر اس نے تلوار سے اس کا سر اڑا دیا- حضرت مسیح موعود کی بعثت دراصل یہ عذاب تھا جو اس رنگ میں مسلمانوں پر نازل ہوا جس نے مسلمانوں کو پیس کر رکھ دیا- آخر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مبعوث کیا اور مسلمان جب بے حد کمزور ہو گئے تو روحانی طور پر ان کی حفاظت کا سامان کیا گیا- ہندوؤں کی منظّم سازش اب ایک اور زمانہ آ رہا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انگریز ایک حد تک حکومت کر کے تھک گئے ہیں- لایودہ حفظھما ۸؎ تو خدا تعالیٰ کی شان ہے- انگریزوں نے زبانی نہیں تو عملی طور پر کہہ دیا ہے کہ ہم تھک گئے