انوارالعلوم (جلد 12) — Page 588
۵۸۸ قرض ہو گیا ہے- اگر اس وقت کشمیر کے مسلمانوں کی امداد کا کام بند بھی کر دیا جائے تو بھی دس ماہ تک چندہ جاری رکھنا پڑے گا تا کہ قرض ادا ہو جائے- مگر ابھی کام ختم نہیں ہوا بلکہ بڑھ رہا ہے اور ابھی کم از کم ڈیڑھ دو سال تک جاری رکھنے کی ضرورت ہے- خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کا خاصہ ہے کہ جس کام کو وہ ہاتھ میں لیتی ہے اسے مکمل کر کے چھوڑتی ہے اور اس بات کو ہمارے دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں- اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس حد تک اس کام کو مکمل کریں جس حد تک تکمیل کی ضرورت ہے- پس میں توجہ دلاتا ہوں کہ دوست نہ صرف اس امداد کو جاری رکھیں بلکہ اسے دوگنی تگنی کر دیں اور کوشش کریں کہ نہ صرف ہزار ڈیڑھ ہزار روپیہ اس کام کیلئے ماہوار جمع ہو بلکہ دو اڑھائی ہزار تک آمد ماہوار ہو اور دو ڈیڑھ سال تک جاری رہے جب تک کہ وہاں کے لوگ کام کو سنبھالنے کے قابل نہ ہو جائیں اس امداد کو جاری رکھیں- میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ اس کام میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے- میں نے اپنا ایک رؤیا بھی سنایا تھا اب چند ہی دن ہوئے میں نے ایک اور رؤیا دیکھا- میں نے دیکھا دروازہ پر آواز دی گئی ہے کہ باہر آئیں ایک ضروری کام ہے- جب میں باہر آیا تو دیکھا کہ دروازہ پر شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی اور منشی برکت علی صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ کھڑے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پارسل ہے- پارسل رسیوں سے بندھا ہوا ہے اور اوپر مہریں لگی ہوئی ہیں وہ کاغذات کا بنڈل معلوم ہوتا ہے انہوں نے بڑے ادب سے کاغذات پیش کئے- میرا ہی ادب نہیں کیا بلکہ کاغذات کا بھی ادب کیا- کہا- یہ پارسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بصیغہ راز بھیجا ہے اور اس میں تاکیدی ارشاد فرمایا ہے اور یہ بھی کہ حاجی نبی بخش کو بھی شامل کر لیا جائے- منشی برکت علی صاحب کے سپرد میں نے چندہ کشمیر کا کام کیا ہوا ہے اس وقت میرا ذہن اس طرف گیا کہ اس پارسل میں کشمیر کے متعلق خاص ہدایایت ہیں تو میں اس کام میں خدائی ہاتھ سمجھتا ہوں- پہلے جب ایک دفعہ میں نے تقریر کی اور بتایا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ کشمیریوں کو آزادی حاصل ہو اور خدا تعالیٰ کا ہاتھ اس کام میں ہے تو ادھر میں نے خطبہ پڑھا اور ادھر کشمیر کے حالات میں سخت خرابی پیدا ہو گئی- بڑے زور سے مسلمانوں پر تشدد شروع ہو گیا انگریزی فوجیں ریاست میں داخل ہو گئیں اور حالات نہایت ہی خطرناک ہو گئے- اس