انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 537

۵۳۷ رکھی کہ دونوں کی مرضی سے ہو ماں باپ کی بھی اور لڑکی کی بھی- اب سوال یہ ہے کہ اگر دونوں کی مرضی نہ ملے تو کیا کیا جائے- اگر لڑکی کو وہ پسند ہو مگر ماں باپ اپنے اغراض کے ماتحت وہاں اس کی شادی نہ کریں تو اسلام نے لڑکی کو اختیار دیا ہے وہ عدالت میں جا کر درخواست دے سکتی کہ میرے والد اپنے اغراض کے ماتحت مجھے اچھے رشتہ سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اور عدالت تحقیقات کے بعد اسے اجازت دے سکتی ہے کہ شادی کر لے- گویا اس طرح سب کے حقوق محفوظ کرنے کا انتظام کر دیا گیا- لڑکی اور ماں باپ دونوں کی مرضی کو ضروری رکھا اور اس طرح کا رشتہ یقیناً مبارک ہوتا ہے- یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی شادیاں زیادہ کامیاب ہوتی ہیں- یورپ میں نوے فیصدی شادیاں ناکام ہوتی ہیں- حتیٰ کے وہاں یہ لطیفہ مشہور ہے کہ اگر کوئی مرد و عورت اکٹھے جا رہے ہوں تو کہتے ہیں یا تو یہ میاں بیوی نہیں یا ان کی شادی پر ابھی ایک ماہ نہیں گزرا- لیکن مسلمانوں میں نویفیصدی شادیاں کامیاب ہوتی ہیں- ہندوستان میں دیکھ لو‘ غیر قوموں کی عورتیں زیادہ نکلتی اور اغوا ہوتی ہیں سوائے ان قوموں کی عورتوں کے جن کی مالی یا اخلاقی حالت لوگوں نے خراب کر دی ہے- غرض اسلام نے زوجیت کے تعلق کی ابتداء ایسے اصول پر رکھی کہ اس کی کوئی اور مثال نہیں مل سکتی- پھر دھوکے بازی سے بچنے کیلئے یہ حکم دیا کہ نکاح علی الاعلان ہو- جو علی الاعلان نہیں وہ نکاح ہی نہیں- اس سے بھی بہت سے فسادات کا انسداد ہو جاتا ہے- پوشیدہ طور پر تو کوئی غلط بات ظاہر کر کے دھوکا بھی دے سکتا ہے لیکن اعلان سے عام طور پر عیوب کھل جاتے ہیں- پھر تمدنی خرابیوں کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ مرد چونکہ کماتا ہے دولت اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس لئے وہ ناجائز طور پر عورت کو خرچ وغیرہ سے تنگ کر سکتا ہے اور عورت کو اس کا محتاج رہنا پڑتا ہے- یورپ نے اس کا یہ علاج تجویز کیا ہے کہ وہ نوکریاں کرنے لگ گئی ہیں نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ بعض ملکوں کی نسلیں کم ہونا شروع ہو گئی ہیں اور بعض ملکوں میں دس سال کے اندر چار‘ پانچ فیصدی نسل کم ہو گئی ہے- اسلام نے اس کا علاج یہ رکھا ہے کہ ہر شخص کی حیثیت کے مطابق عورت کا مہر مقرر کر دیا علاوہ اخراجات کے- گویا مہر عورت کا جیب خرچ ہے دوسری سب ضرورتیں پھر بھی خاوند کے ذمہ ہیں اور مہر اس کے علاوہ ہے- جس سے وہ ان ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہے جو وہ خاوند کو نہیں بتانا چاہتی- مثلاً اس کے والدین غریب ہیں اور وہ ان کی مدد کرنا چاہتی ہے لیکن ساتھ ہی خاوند پر اپنی یہ خواہش ظاہر کر کے اس کی نظروں میں خود ذلیل ہونا اور والدین کو ذلیل