انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 538

۵۳۸ کرنا نہیں چاہتی- یا مثلاً اس کے والدین فوت ہو چکے ہیں اور وہ اپنے بھائیوں کو تعلیم دلانا چاہتی ہے اور ساتھ ہی اس کی غیرت یہ بھی برداشت نہیں کرتی کہ خاوند کا احسان برداشت کرے اس لئے اسلام نے پہلے دن سے عورت کے ہاتھ میں مال دے دیا- جس دن شادی ہوتی ہے خاوند کا مال کم ہو جاتا ہے کیونکہ اسے مہر کے علاوہ اور بھی اخراجات کرنے پڑتے ہیں لیکن نکاح کے ساتھ ہی عورت کا مال بڑھ جاتا ہے- گویا وہ اسی دن سے اس لحاظ سے خاوند کے بے جا تصرف سے آزاد ہو جاتی ہے اور اس طرح جو جھگڑے وغیرہ یورپ میں پیدا ہو رہے ہیں اسلام نے پہلے دن سے ہی ان کا انسداد کر دیا- پھر مرد و عورت کے تعلقات میں ایک وجہ فساد یہ ہوتی ہے کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں میرا بچہ نہیں اور یہ ایک ایسا نازک معاملہ ہے جس کا علاج کوئی نہیں کیونکہ اس بات کا کسی کے پاس کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ میاں بیوی فی الواقعہ باہم ملے- بعض لوگوں نے اس کے لئے بعض ذرائع تجویز کئے لیکن وہ نہایت گندے ہیں- مثلاً بعض اقوام میں یہ رواج ہے کہ ملوث پارچات دکھاتے ہیں لیکن یہ نہایت ہی خطرناک طریق ہے اور اس میں سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ بعض عورتوں کا خون نکلتا ہی نہیں اور چونکہ سب لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے گندے کپڑوں کی نمائش سے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ عورت بدکار تھی حالانکہ وہ ایسی نہیں ہوتی- شریعت اسلامیہ نے اس کے لئے کیا لطیف طریق رکھا ہے اور وہ یہ کہ جب میاں بیوی ملیں تو اگلے روز ولیمہ کی دعوت کی جائے- اس طرح بغیر ایک لفظ منہ سے نکالے یہ اعلاج ہو جاتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں مل گئے ہیں- پھر ایک بات اسلام نے یہ رکھی کہ نکاح سے قبل استخارہ کر لو- رسول کریم ﷺ نے ہر اہم امر میں استخارہ کا حکم دیا ہے بالخصوص شادی کے بارے میں-۷؎ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جلد بازی کے برے انجام سے انسان بچ جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کر سکتا ہے- جلد بازی سے بھی کئی جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ بڑا اچھا رشتہ ہے آج ہی کر لو لیکن مقصد ان کا یہ ہوتا ہے کہ ان کے عیوب ظاہر نہ ہونے پائیں- لیکن اگر سات روز تک استخارہ کیا جائے تو اس عرصہ میں اور لوگوں سے بھی شادی کا ذکر آئے گا اور اس طرح بات کھل جائے گی- پھر استخارہ کی وجہ سے جذبات دب جاتے ہیں اور انسان روحانی تصرف کے ماتحت ہوتا ہے- خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت اس کے علاوہ ہے-