انوارالعلوم (جلد 12) — Page 7
۷ ’’پھر خدا نے موسیٰ سے کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے- پھر وہ بولا عصا‘‘ اس جگہ عبرانی میں لفظ ‘’مزہ’‘ ہے- یعنی یہ کیا ہے- یہ الفاظ عربی کے الفاظ ’’ماذا‘‘ سے ملتے ہیں ’’م ز ہ‘‘ کا یہ استعمال غیر معمولی ہے- ورنہ احبارباب ۲۵- آیت۲۰- شمار باب ۱۳ آیت۱۹‘ ا- سمویل باب ۳ آیت۱۷- زبور باب ۳ آیت۱۲۰- امثال باب ۳۰ آیت۴ اور دیگر مقامات میں ‘’کیا’‘ کے لئے لفظ ‘’منہ’‘ استعمال کیا گیا ہے- اس کے مقابلہ میں جاندار کے متعلق صوال کے موقع پر ‘’کون’‘ کے لئے پیدائش باب ۲۷ آیت۱۸ ایضاً باب ۳۳ آیت۵- خروج باب ۱۵ آیت۱۱‘ ۱- سمویل باب ۲۵ آیت۱۰- زبور باب ۴ آیت۶ وغیرہ میں عبرانی کا لفظ’’رمی‘‘ استعمال ہوا ہے- اس فرق کو دیکھ کر صاف طور پر واضح ہو جاتا ہے- کہ خروج باب ۱۶ میں جو ’’مَنّ‘‘ کا استعمال ہوا ہے وہ ’’کیا‘‘ کے معنوں میں نہیں- کیونکہ پرانی عبرانی زبان میں کیا کے لئے ‘’مَنّ’‘ نہیں بلکہ ’’منہ‘‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے- اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جلا وطنی اور اس کے بعد کے زمانہ میں جب ‘’من’‘ کا لفظ سوال کے لئے استعمال ہونے لگا تو اس سے بے جان نہیں بلکہ جاندار کے متعلق سوال کیا جاتا تھا- چنانچہ عزرا باب ۵ آیت۳‘۹ اور دانیال باب ۲ آیت۱۵ میں ‘’مَنّ’‘ کا لفظ سوال کے لئے استعمال ہوا ہے- لیکن وہاں سوال جانداروں کے متعلق ہے پس معلوم ہوا کہ اول تو تورات کے نزول کے وقت ‘’من’‘ کا لفظ سوال کے لئے استعمال نہیں ہوتا تھا- دوم بنی اسرائیل کی جلا وطنی کے زمانہ سے جب یہ لفظ سوال کے لئے استعمال ہونے لگا ہے- اس وقت بھی یہ لفظ قاعدہ کے طور پر جاندار چیزوں کے متعلق سوال کرنے کے لئے استعمال ہوتا تھا‘ نہ یہ کہ بے جان چیزوں کے متعلق اور استثناء کے طور پر اگر کہیں اس کے خلاف استعمال ہوا ہے تو اسے بطور سند پیش نہیں کیا جا سکتا- لہذا خروج باب ۱۵ آیت۱۶ میں ‘’من ہے’‘ کے معنی ‘’کیا ہے’‘ کے کرنا اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ ‘’من’‘ کو ‘’من’‘ اس لئے کہا گیا تھا کہ بنی اسرائیل نے اسے پہچاننے کی وجہ سے ‘’من’‘ کے لفظ سے اس کے متعلق سوال کیا تھا‘ درست نہیں- اور یہ غلط فہمی یورپی مصنفوں کو اس لئے ہوئی ہے کہ وہ عبرانی جیسی مردہ زبان کی تحقیق کرتے وقت اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ عبرانی کی ماں عربی زبان زندہ موجود ہے- عبرانی الفاظ کی حقیقت کے سمجھنے میں جب مشکلات ہوں تو وہ عربی زبان سے مدد لے لیا کریں- اس موقع پر اگر وہ عربی سے مدد لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ عربی زبان میں ’’ما‘‘ غیر ذی روح