انوارالعلوم (جلد 12) — Page 6
۶ بنی اسرائیل میں استعمال ہونے لگا- چنانچہ اس باب (۱۶) کی آیت ۳۱ میں لکھا ہے- ‘’اور اسرائیل کے گھرانے نے اس کا نام ’’من‘‘ رکھا’‘- بعض محققین جارج ایبرز ۲؎ کی اتباع میں اصل تشریح کو غلط سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ لفظوں کی مشابہت سے مغالطہ ہو گیا ہے- اصل میں یہ لفظ ‘’منو’‘ ہے اور قبطی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی قبطی زبان میں کھانے کے ہیں- اس لئے بنی اسرائیل نے من سوال اور استفہام کے طور پر اس کا نام نہیں رکھا بلکہ چونکہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ یہ موعودہ روٹی ہے- انہوں نے اس کا نام ‘’منا’‘ یعنی خوراک رکھ دیا- کیونکہ اس کا کوئی اور نام انہیں معلوم نہ تھا- ان کا یہ خیال ہے کہ من استفہامیہ کا استعمال ارمیک زبان میں نہیں اور یہ قابل تعجب امر ہے کہ اس معنی میں جس میں ارمیک زبان کا کوئی اور لفظ استعمال نہیں ہوا‘ یہ لفظ مستعمل ہو جاتا- مگر مسٹر فیلڈ نے اس حیرت کو بائیبل کے ایک قدیم یونانی نسخہ سے دور کرنے کی کوشش کی- نیز اس نسخہ میں خروج باب۱۶ آیت۱۵ کے الفاظ ’’مَنّ ہے‘‘ کی بجائے ’’کیا یہ من ہے‘‘- ہیں اور اگر یہ فرق صحیح تسلیم کر لیا جائے تو من خوراک کے معنی میں درست ثابت ہوتا ہے اور استفہام کے الفاظ کا علیحدہ موجود ہونا واضح کر دیتا ہے کہ ‘’من’‘ کا لفظ اس جگہ استفہام کے طور پر استعمال نہیں ہوا تھا- اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عبرانی کا لفظ جو اس جگہ استعمال ہوا ہے‘ اس کے معنی استفہام کے بھی ہوتے ہیں- لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ یہ لفظ بنی اسرائیل کی جلا وطنی اور اس کے بعد کے زمانہ میں ان معنوں میں صرف عزرا اور دانیال کی کتب میں استعمال ہوا ہے- جلا وطنی سے پہلے کے زمانہ میں اس کا استعمال ان معنوں میں نظر نہیں آتا اور اس وجہ سے بعض اہل نظر نے اسے ارمیک قرار دیا- ہم جب اس لفظ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے تورات کے دوسرے مقامات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ بے جان چیزوں کے متعلق سوال کرنے کا کیا طریق ہے‘ تو وہاں ہمیں ایک ایسی بات مل جاتی ہے جو اس سوال کو ہمارے لئے قطعی طور پر حل کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ تورات میں جہاں بے جان چیزوں کے متعلق سوال کیا گیا ہے- وہاں ’’منہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے نہ کہ ‘’من’‘ کا اور جہاں جاندار چیزوں کے متعلق سوال کیا گیا ہے وہاں ‘’ری’‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے- چنانچہ خروج باب ۴ آیت ۲ میں ہے-