انوارالعلوم (جلد 12) — Page 427
۴۲۷ کہ کان خلقہ القرآن *۱۱؎یعنی رسول کریم ﷺ کے اخلاق کے متعلق قرآن کو دیکھ لو- آپ کے تمام اخلاق قرآنی معیار کے مطابق تھے- پس قرآن کریم یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے کم از کم ایک شخص اپنے معیار کے مطابق پیدا کر لیا ہے اس لئے ہم اس کی تعلیم کے متعلق یہ شبہ نہیں کر سکتے کہ (۱)وہ قابل عمل نہیں (۲)یا یہ کہ اس نے اپنے لانے والے کی اصلاح نہیں کی تو دوسروں کی کیا کرے گا؟ کیونکہ محمد ﷺ نے اس پر عمل کیا اور اعلیٰ درجہ کے انسان بن گئے- پس کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ قرآن نے لانے والے کو کیا فائدہ پہنچایا کہ ہمیں پہنچائے گا- میں نے جو یہ بتایا ہے کہ الہامی کتاب کی افضلیت کی یہ بھی دلیل ہے کہ اس کا لانے والا دوسروں سے افضل ہو یہ بھی قرآن خود ہی بیان کرتا ہے- اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کی پہلی زندگی بھی پاک اور کامل ہونی چاہئے اور دعویٰ کے بعد کی زندگی بھی مطابق وحی ہونی چاہئے- پہلی زندگی کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے- واذا جاء تھم ایة قالوا لن نو من حتی نوتی مثل ما اوتی رسل اللہ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ سیصیب الذین اجرموا صغار عنداللہ و عذاب شدید بما کانوا یمکرون فمن یرداللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقا حرجا کانما یصعد فی السماء کذلک یجعل اللہ الرجس علی الذین لایومنون-۱۲؎ فرمایا- ان لوگوں کے سامنے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوئی نشان پیش کرتا ہے تو کہتے ہیں ہم کبھی نہیں مانیں گے جب تک ہمیں وہی کچھ نہ ملے جو اللہ کے رسولوں کو ملا- یعنی وحی اور الہام- خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ہر ایک پر وحی رسالت نازل کی جائے- اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کسے رسول بنانا چاہئے- وہ اس کے احوال اس کے افکار اور اس کے عادات دیکھتا ہے- جو سب سے اعلیٰ ہو اسے رسالت کا منصب دیتا ہے- تم جو یہ کہتے ہو کہ تمہیں بھی وہی کچھ ملنا چاہئے جو رسولوں کو ملتا ہے- کیا تم اپنی حالت کو نہیں دیکھتے- تم تو گندے ہو- اور گندوں کو ذلت ہی ملا کرتی ہے- رسالت تو بہت بڑی عزت ہے- یہ پاک اور اعلیٰ پایہ کے انسان کو ملتی ہے تم کو تو تمہارے مکروں کی وجہ سے عذاب ملے گا- اللہ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کیلئے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ کر دیتا