انوارالعلوم (جلد 12) — Page 407
۴۰۷ ہمدرد تھے- فتنہ پردازوں نے کوشش کی کہ پتھر مار مار کر ہمیں جلسہ گاہ سے بھگا دیں- جب میں جلسہ گاہ کی طرف جا رہا تھا تو دو آدمی دوڑتے ہوئے آئے اور آ کر کہنے لگے سٹیج والوں نے کہا ہے وہاں پتھر پڑ رہے ہیں آپ نہ جائیں- میں نے کہا میں ضرور جاؤں گا- جب جلسہ گاہ کے قریب پہنچے تو تین لڑکے سخت گھبرائے ہوئے آئے اور کہنے لگے وہاں تو پتھروں کی بارش ہو رہی ہے آپ نہ جائیں- میں نے کہا! خواہ کچھ ہو میرا جانا ضروری ہے- جب میں وہاں پہنچا جو بہت وسیع میدان تھا تو دریا کے پانی کی طرح مخالفت کا سیلاب بہہ رہا تھا- فتنہ پردازوں نے کوشش کی کہ پتھر مار مار کر سٹیج والوں کو اٹھا دیں اور خود قبضہ کر لیں- اس وقت بعض رؤساء نے کہا جلسہ ملتوی کر دیا جائے لیکن میں نے کہا یہ ایمان کے خلاف ہے کہ مومن ڈر کر کسی مقام سے پیچھے ہٹے جلسہ ضرور ہو گا- جب سٹیج پر پہنچا تو بہت ہی زیادہ سنگباری شروع ہوگئی- یہ دیکھنے کے قابل نظارہ تھا- میرے چاروں طرف نوجوان کھڑے ہو گئے اور انہوں نے چھتریاں تان لیں مگر پتھر بے تحاشا آتے تھے- تین کی خراش مجھے بھی لگی ایک تو آدھی اینٹ تھی- وہ جب آ کر میری انگلی پر گرنے لگی تو میں نے سمجھا انگلی کو مسل کر رکھ دے گی مگر جب آئی تو یوں معلوم ہوا کہ انگلی کے ساتھ چھوا کر رکھ دی گی ہے- میں نے اس موقع پر اپنی جماعت کے لوگوں سے کہہ دیا کہ ہلنا نہیں- پتھر آتے اور ہمارے لوگ زخمی ہو کر گرتے مگر اپنی جگہ سے کوئی نہ ہٹتا جو زخمی ہوتے وہ پٹی بندھوا کر پھر آ جاتے- ایک گھنٹہ دس منٹ تک مسلسلسنگ باری ہوتی رہی مگر ہماری جماعت کا ایک فرد بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا- لیکن جب ڈپٹی کمشنر نے فتنہ پردازوں سے کہا کہ بھاگ جاؤ ورنہ لاٹھی چارج کیا جائے گا تو بیس ہزار لوگوں میں سے پانچ منٹ کے اندر اندر وہاں ایک بھی نظر نہ آیا- غرض ان لوگوں نے دیکھ لیا کہ ہم نہ ڈرنے والے ہیں اور نہ گھبرانے والے- ہم تو مشکلات اور شدائد اٹھانے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں- خدا تعالی دکھاتا ہے کہ میرے بندے آگ میں پڑ کر بھی سلامت رہتے ہیں اور میری راہ میں ہر مشکل اٹھانے کیلئے تیار ہیں- مسلمانانِ کشمیر کی امداد کیلئے روپیہ کی ضرورت غرض مسلمانان کشمیر کی امداد کا کام جارہی ہے اس کیلئے زیادہ تر روپے کی ضرورت ہے- جماعت کو تحریک کی گئی تھی کہ اس کام کیلئے دوسروں سے روپے وصول کریں- اس بارے میں جو کچھ معلوم ہوا اس سے مجھے افسوس بھی ہے اور خوشی بھی- افسوس