انوارالعلوم (جلد 12) — Page 406
۴۰۶ ہم ان سے کہتے ہیں- تم کیا اگر دنیا کی ساری حکومتوں اور ساری قوموں کو بلا کر بھی اپنے ساتھ لے آؤ پھر بھی تم جیت جاؤ تو ہم جھوٹے (اس پر مجمع نے اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے( اگر ان لوگوں نے ایسا کیا تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس چیز سے ٹکراتے ہیں- اگر انہوں نے ہم پر حملہ کیا تو چکنا چور ہو جائیں گے اور اگر ہم نے ان پر حملہ کیا تو بھی وہ چکنا چور ہو جائیں گے- یہ خدا کا قائم کردہ سلسلہ ہے اور یہ اس کی مشیت اور ارادہ ہے کہ اسے کامیاب کرے اس کے خلاف کوئی انسانی طاقت کچھ نہیں کر سکتی- بیشک ہم کمزور ہیں‘ ضعیف ہیں‘ اس کا ہمیں اقرار ہے مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ پر ہمیں یقین ہے اور اس کے متعلق ہم کوئی ضعف نہیں دکھا سکتے- ہم یہ نہیں کہتے کہ ان کو کچل دیں گے مگر یہ ضرور یقیناً اور حتمی طور پر کہتے ہیں کہ خدا ان کو کچل دے گا- خواہ وہ کتنی بڑی فوجوں کے ساتھ ہمارے خلاف کھڑے ہو جائیں- (نعرہ اللہ اکبر( لڑائی کا نام اسلامی اصطلاح میں آگ رکھا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے- ‘’آگ سے ہمیں مت ڈرا‘ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے’‘-۵؎ پس ہم پر غالب آنے کا خیال ان کا محض وہم و گمان ہے- اگر ہم میں سے ہر ایک کو قتل کر دیں‘ پھر قتل کر کے جلا دیں اور پھر راکھ کو اڑا دیں تو بھی دنیا میں احمدیت قائم رہے گی- ہر قوم ہر ملک اور ہر براعظم میں پھیلے گی اور ساری دنیا میں احمدیت ہی احمدیت نظر آئے گی- یہ خدا کا لگایا ہوا پودا ہے اس کے خلاف جو زبان دراز ہو گی‘ وہ زبان کاٹی جائے گی‘ جو ہاتھ اٹھے گا وہ ہاتھ گرایا جائے گا- جو آواز بلند ہوگی وہ آواز بند کی جائے گی‘ جو قدم اٹھے گا وہ قدم کاٹا جائے گا- اگر انگریز‘ جرمن‘ امریکن‘ فرانسیسی سب مل جائیں تو بھی جس طرح مچھر مسلا جاتا ہے اسی طرح مسلے جائیں گے اور ساری قومیں احمدیت کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گی (نعرہ ہائے اللہ اکبر) مخالفت کے اسی جوش و خروش میں پچھلے دنوں میں جب سیالکوٹ گیا تو ان لوگوں نے ہمارا مظاہرہ بھی دیکھ لیا- ایک جلسہ میں میری تقریر کا انتظام کیا گیا تھا- جلسہ میں جانے سے قبل ہی ان لوگوں کی نیت کا پتہ لگ گیا لیکن میں نے اپنی جماعت کے لوگوں سے کہا سٹیج پر قبضہ کر لیا جائے پھر جو کچھ ہو گا دیکھا جائے گا- چنانچہ ہماری جماعت کے لوگ جلسہ گاہ میں چلے گئے جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ پندرہ سو کے قریب ہوگی اتنے ہی دوسرے مسلمانوں میں سے ہمارے