انوارالعلوم (جلد 12) — Page 397
۳۹۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم بعض ضروری امور (فرمودہ ۲۷ دسمبر ۱۹۳۱ء) تشہد‘ تعوّذاور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-: میں نے اس سال کے متعلق ارادہ ظاہر کیا تھا کہ بعض تبلیغی اشتہارات شائع کئے جائیں گے- اس ارادہ کے مطابق دو اشتہار شائع بھی کئے لیکن باوجود اس کے کہ میں تیار تھا کہ اور اشتہار شائع کئے جائیں‘ ناظر صاحب دعوت و تبلیغ کی طرف سے خواہش نہ کی گئی اور میں نے دریافت اس لئے نہ کیا کہ اخبار میں میں نے نظارت کی طرف سے اعلان دیکھا تھا کہ دوستوں نے ان اشتہارات کی اشاعت کیلئے جیسی کوشش کرنی چاہئے تھی ویسی نہیں کی اور بہت سے اشتہارات دفتر میں پڑے ہیں- میرا ارادہ ان اشتہاروں کی اشاعت کو وسیع کرنے کا تھا یہاں تک کہ ان کی اشاعت ایک لاکھ تک ہو جائے اور سال میں ۲۴‘۲۵ لاکھ انسانوں تک سلسلہ کی آواز پہنچا سکیں- ایک لاکھ اشتہار کی چھپائی پر پانچ چھ سو روپیہ خرچ آ سکتا ہے اور شاید سو سوا سو روپیہ باہر بھیجنے پر خرچ آ جائے کچھ اور اخراجات بھی شامل کر لئے جائیں تو زیادہ سے زیادہ ایک ہزار روپیہ کا یہ خرچ ہے اور اسے خرچ کر کے کئی لاکھ انسانوں تک سلسلہ کی آواز پہنچانے کے معنی یہ ہیں کہ ایک روپیہ میں تین سو سے اوپر افراد کو تبلیغ کر سکتے ہیں- گویا ایک پیسہ میں پانچ آدمیوں کو تبلیغ کر سکتے ہیں- یہ تبلیغ ایسی سستی ہے کہ اس سے زیادہ سستی ممکن نہیں مگر افسوس ہے کہ جماعت نے کارکنوں کے ساتھ تعاون نہیں کیا- میں ساری ذمہ واری جماعت پر ہی نہیں ڈالتا اس میں کارکنوں کی بھی سستی ہے اگر وہ اور اشتہار شائع کرتے تو میرا خیال ہے جماعت کی سستی دور ہو جاتی- اب میں امید کرتا ہوں کہ کارکن اشتہاروں کی اشاعت کی کوشش کریں گے اور اگر اتنی تعداد میں ہی اشتہار شائع ہوں جس قدر پہلے شائع ہوئے- یعنی ۲۵ ہزار‘ تو بھی دو لاکھ انسانوں کو ہم تبلیغ کر سکتے ہیں- حضرت مسیح موعود