انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 398

۳۹۸ علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی چھوٹے چھوٹے اشتہاروں پر بہت زور دیا تھا کیونکہ عام لوگ انہیں باآسانی پڑھ لیتے ہیں اور باہر سے جو خطوط آتے رہے ان سے بھی معلوم ہوا کہ اشتہار بہت مفید ثابت ہوئے- میں امید کرتا ہوں کہ دوست سستی ترک کر کے اشتہاروں کے پھیلانے کی کوشش کریں گے اور اس سلسلہ کو جاری رکھیں گے- تبلیغ احمدیت اس سال ایک اور کام بھی کیا گیا ہے اور وہ تبلیغ کا کام ہے- میں نے ایک پروگرام بنایا تھا کہ بعض خاص علاقوں میں خاص زور دیا جائے- اس سال اسی ضلع گورداسپور میں دریائے بیاس کا کنارہ منتخب کیا گیا تھا جہاں خصوصیت سے تبلیغ کی گئی اور قادیان اور گردو نواح کے احمدیوں سے جبری یا تحریک کر کے تبلیغ کا کام کرایا گیا- اس طرح کئی جگہ نئی جماعتیں بن گئیں اور کئی لوگ اخلاص کے ساتھ سلسلہ میں داخل ہوئے جو دینی علوم سیکھنے کی جدو جہد کر رہے ہیں- اس کے علاوہ باہر کی جماعتوں میں انصار اللہہ کا سلسلہ جاری کیا گیا- یعنی احباب کو خاص طور پر تبلیغ میں حصہ لینے کی تحریک کی گئی اس میں بھی کامیابی ہوئی- جو جماعتیں مدت سے سست ہو چکی تھیں وہ بھی بڑھنے لگیں اور احباب چستی سے کام کر رہے ہیں- میں سمجھتا ہوں ادھر تبلیغی اشتہاروں کا سلسلہ جاری رہے اور ادھر تبلیغ خاص اور تبلیغ عام پر زور دیا جائے تو بہت جلد جماعت بڑھ سکتی ہے- جب کام شروع کیا جائے تو آہستہ آہستہ طبائع پر اثر ہونے لگتا ہے- مگر اس سال کی بیعت گزشتہ سالوں کی نسبت دگنے سے بھی زیادہ ہے اور جب پہلے ہی سال اتنا میٹھا پھل حاصل ہوا ہے تو آئندہ کے متعلق اللہ تعالیٰ سے ہم امید رکھتے ہیں کہ بہت اچھے پھل حاصل ہوں گے- میں امید رکھتا ہوں کہ احباب انصار اللہ کی تحریک میں شامل ہو کر نظارت دعوت و تبلیغ کے ذریعہ کوشش کریں گے تا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام جلد پورا ہو کہ ‘’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا’‘-۱؎ چندہ خاص پچھلے دو تین سال سے مالی حالت ہمارے ملک کی بلکہ ساری دنیا کی خراب ہو رہی ہے- چونکہ ان مشکلات کی وجہ سے سالانہ بجٹ پورا نہ ہو سکتا تھا اس لئے میں نے اپنی جماعت کو تحریک کی کہ اگر مالی بوجھ جلد دور نہ کر دیا گیا تو خطرہ ہے کہ کسی وقت بہت مشکل پیش آ جائے- اس غرض کی لئے چندہ خاص کا مطالبہ کیا گیا اور تین ماہ میں ایک مہینہ کی آمد دینے کی ہدایت کی گئی- ایسی تنگی کی حالت میں جب کہ ملازموں کی تخفیف اور ان کی