انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 368

۳۶۸ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف نہیں بلکہ یہ عزت سے نکلا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تمہیں بڑی چیز دیکھنا چاہتا ہے- میں بتاتا ہوں کہ کس طرح غیر قوموں کی تکلیف کے متعلق بھی آپ کو خیال رہتا تھا اور اس طرح اپنوں کو اخلاق کے بلند مقام پر آپ دیکھنا چاہتے تھے- ایک دفعہ ایک یہودی سے حضرت ابوبکرؓ کی گفتگو ہو رہی تھی- اس نے حضرت موسیٰ کو آنحضرت ﷺ پر فضیلت دی اور آپ نے اسے تھپڑ مار دیا- وہ شکایت لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا- آپ نے حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا مجھے یونہی دوسروں پر فضیلت نہ دیا کرو-۲۷؎ بعض نادان کہتے ہیں یہ پہلا زمانہ تھا جب آپ واقعی اپنے آپ کو حضرت موسیٰ سے افضل نہ سمجھتے تھے حالانکہ یہ سرا سر غلط ہے- آپ کو پہلے دن سے ہی اپنے مقام اور افضل ہونے کا علم تھا- اس میں توآپﷺ نے اپنی امت کو سبق دیا ہے کہ ایسی باتیں نہ کیا کرو جس سے دوسروں کو تکلیف ہو- دیکھو کس قدر دوسروں کے احساسات کا احترام مدنظر ہے- آپﷺ نے بتایا کہ میری فضیلت کا اظہار وعظ و نصیحت کے طور پر کیا کرو لڑائی کے وقت یا غصہ کی حالت میں نہ کرو- پھر آپ نے فرمایا کہ دوسروں کے بزرگوں کی عزت کرو اور ان کی مذمت نہ کیا کرو ۲۸؎ بلکہ قرآن نے تو غیراللہ معبودوں کو بھی گالی دینے سے منع فرمایا- چنانچہ ارشاد ہوتا ہے-لا تسبوالدین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوابغیر علم۲۹؎ یعنی دوسروں کے بتوں کو بھی برا نہ کہا کرو کیونکہ وہ نادانی سے خدا کو برا کہہ کر خواہ مخواہ عذاب کے پنجے میں گرفتار ہوں گے- کس قدر انصاف کا خیال ہے- پھر غیر یعنی دشمن سے سلوک یہ ہے کہ فرمایا لڑائی میں بھی انصاف کیا کرو- جتنی تعدی دوسرا تم پر کرتا ہے تم بھی اتنی ہی کرو‘ اس سے زیادہ نہ کرو- اور جب دوسرا صلح کی درخواست کرے تو خواہ لڑائی تمہارے ہی حق میں ہو‘ فوراً صلح کر لو اور تاریخ میں کوئی مثال ایسی نہیں کہ کسی نے مسلمانوں سے صلح کی درخواست کی ہو اور انہوں نے انکار کر دیا ہو- صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت علیؓ نے مسودہ لکھا کہ اس معاہدہ میں ایک طرف محمدﷺ رسول اللہ ہیں- کفار نے اس پر اعتراض کیا آپ نے فرمایا رسول اللہ کا لفظ مٹا دو- حضرت علیؓ نے عرض کیا- میں کس طرح مٹا سکتا ہوں- آپﷺ نے اپنے ہاتھ سے یہ الفاظ کاٹ دیئے- ۳۰؎ حالانکہ صاف بات تھی آپ کہہ سکتے تھے کہ یہ میرے دستخط ہیں تمہارے تو نہیں مگر آپﷺ نے دوسروں کے احساسات کا پورا پورا لحاظ رکھا اور ہر حالت میں صلح کر لی- آپ جس وقت مبعوث ہوئے- اس وقت دنیا میں غلام‘ عورت اور