انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 369

۳۶۹ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف DEPRESSED CLASSES ان تینوں پر سخت ظلم ہوتا تھا آپﷺ نے سب کو آزادی بخشی- آپ چونکہ عزیز علیہ ماعنتم تھے اس لئے اس ظلم اور تعدی کو برداشت نہ کر سکے اور جب تک سب کو آزاد نہ کیا- آپ کو چین نہیں آیا- اس زمانہ میں جبکہ غلام کو جان سے بھی مار دیا جاتا تو کوئی ظلم نہ سمجھا جاتا تھا‘ آپ نے حکم دیا کہ جو شخص کسی غلام کو مارے گا تو اس کا غلام آزاد سمجھا جائے گا- پھر فرمایا جیسا خود کھاؤ‘ ان کو کھلاؤ اور جیسا خود پہنو‘ ان کو پہناؤ- وہ کام ان سے نہ لو جو خود کرنا پسند نہ کرتے ہو مثلاً چوہڑوں وغیرہ کا کام اور جو کام انہیں دو اس میں ان کی مدد کرو- اور اس طرح وہ تمام تکالیف جو غلاموں کو تھیں آپﷺ نے دور کر دیں- پھر غلاموں کے متعلق فرمایا- اما منا بعدو اما فداء۳۱؎یعنی یا تو انہیں بطور احسان چھوڑ دو یا تاوان وصول کر کے چھوڑ دو- غلامی صرف جنگی قیدی کی صورت میں جائز رکھی اور دنیا میں کون ہے جو جنگی قیدی کو بغیر تاوان لئے چھوڑ دے- آپﷺ نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ ساری عمر کے لئے کسی کو غلام رکھنا قطعاً ناجائز ہے- اس وقت تک رکھ سکتے ہو کہ جب تک وہ تاوان ادا نہ کرے اور یا اسے بطور احسان نہ چھوڑ دو- اور جنگی قیدی بنا لینے کا حکم دینے کی وجہ سے اسلام پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر سزا نہ رکھی جائے تو ایک قوم یا خود مٹ جاوے گی یا دوسرے اسے مٹا دیں گے- پھر عورتیں فروخت کر دی جاتی تھیں‘ انہیں بطور ورثہ تقسیم کیا جاتا تھا‘ لڑکیاں زندہ درگورکر دی جاتی تھیں‘ عورتوں کو بیحد ذلیل اور بے عزت سمجھا جاتا تھا مگر آپﷺ نے فرمایا- خیر کم خیر کم لا ھلہ۳۲؎ اور اس طرح عورتوں پر تمام مظالم کاانسداد کر دیا- تفصیلات میں اس وقت بیان نہیں کر سکتا یہ اصولی تعلیم ہے- لڑکیوں کے متعلق فرمایا جس کے پاس دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی تربیت کرے‘ انہیں اعلیٰ اخلاق سکھائے‘ لکھائے‘ پڑھائے اس کا گھر جنت میں ہو گا‘۳۳؎ ماؤں کے متعلق حکم دیا کہ انہیں اف تک نہ کہو‘۳۴؎ بہنوں کو وراث بنایا- گویا عورتوں کی تکلیف بھی آپﷺ سے نہ دیکھی گئی اور ان کو بھی آزادی دی تیسری DEPRESSED CLASSES جو ہیں ان کے متعلق فرمایا- ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم ۳۵؎ یہ مت خیال کرو کہ فلاں اعلیٰ و فلاں ادنیٰ ہے- خدا کے نزدیک مکرم وہی ہے جو زیادہ متقی ہو- ان غریبوں کو جو مظالم کے پنجوں میں پھنسے ہوئے تھے‘ یہ کہہ کر اٹھایا کہ خدا کے نزدیک معزز و مکرم وہی ہے جس کے اخلاق اعلیٰ ہوںاور جو تقویٰ میں