انوارالعلوم (جلد 12) — Page 285
۲۸۵ اپنے دلائل بیان کریں اور دلائل سننے کے بعد اگر دونوں فریق مباہلہ کرنا چاہتے ہوں تو مباہلہ ہو- سید صاحب کے نزدیک حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وفد نجران کے مدینہ پہنچنے کے بعد آیت مباہلہ نازل ہوئی ہے اور اس کے بعد کوئی بحث رسول کریم ﷺ نے نہیں کی- بلکہ وفد نجران کو مباہلہ کا چیلنج دے دیا- میں بحث کی خاطر تسلیم کر لیتا ہوں کہ ایسا ہی ہوا- مگر میں کہتا ہوں کہ اگر ایسا بھی ہوا ہو تب بھی قبل مباہلہ بحث کی نفی ثابت نہیں ہوتی کیونکہ اصل غرض حکم الہی کی یہ ہے کہ مباہلہ کے معاً پہلے فریقین ایک دوسرے کے دلائل سن چکے ہوں تا کہ آخری وقت ایک دوسرے پر اتمام حجت ہو جائے- اب یہ تو سید صاحب کو تسلیم ہے کہ مباہلہ کے چیلنج سے معاً پہلے مباہلہ کے فریقین میں پوری طرح تبادلہ خیالات ہو چکا تھا پس اصل غرض پوری ہو گئی- لیکن مجوزہ مباہلہ سے پہلے کوئی ایسی گفتگو چونکہ فریقین میں نہ ہو چکی ہوگی اس لئے ضروری ہے کہ اس کی صورت بھی نکالی جائے جس کے لئے میں زور دے رہا ہوں- سید صاحب فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے کافی مباحثات ہو چکے ہیں بلکہ مباہلہ سے پہلے بٹالہ میں بھی مباحثہ ہو چکا تھا لیکن یہ جواب درست نہیں اس لئے کہ اس سے پہلے جو کچھ ہو چکا ہے وہ دوسرے لوگوں کے درمیان ہوا ہے نہ کہ مباہلہ کے رؤساء کے درمیان- مجھے اور سید صاحب کو ایک دوسرے کے سامنے تبادلہ خیالات کا موقع اس طرح نہیں ملا جس طرح کہ رسول کریم ﷺ اور وفد نجران کو ملا تھا- پس ضروری ہے کہ ہم دونوں بوجہ اصل مباہلین ہونے کے مباہلہ سے پہلے اپنے اپنے دلائل سے ایک دوسرے کو واقف اور آگاہ کر دیں تا کہ پوری طرح اتمام حجت ہو جائے- آیت مباہلہ کے بعد تبادلہ خیالات کا ثبوت میں نے اوپر جو کچھ لکھا ہے اس امر کو فرض کر کے لکھا ہے کہ سید صاحب کا یہ دعویٰ صحیح ہے کہ آیت مباہلہ کے بعد رسول کریم ﷺ اور وفد نجران کے درمیان کوئی مباحثہ نہیں ہوا- مگر حق یہ ہے کہ آیت مباہلہ کے بعد تبادلہ خیالات کا ہونا تاریخ و حدیث سے ثابت ہے- چنانچہ ابن جریرؓ بن اسحقؓ اور ابن منذرؓ کی روایت محمد بن جعفر بن الزبیرؓ سے تفسیر درمنثور میں درج ہے کہ وفد نجران جب رسول کریم ﷺ کے پاس آیا تو انہیں رسول کریم ﷺ نے اسلام کی دعوت دی- انہوں نے جواب دیا کہ ہم پہلے سے اسلام لا چکے ہیں- یعنی مسیح کو مان چکے ہیں- اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم جھوٹے ہو- تمہیں اسلام لانے سے