انوارالعلوم (جلد 12) — Page 284
۲۸۴ ضرورت نہیں- اب دو سوال رہ جاتے ہیں اور وہ سوال میرے نزدیک نہایت اہم ہیں- اول مباہلہ سے پہلے فریقین کا اپنے معنقدات اور ان کے دلائل کو بیان کرنا- اور دوسرے ہر ایک فریق کے ساتھ جماعت کا مباہلہ میں شامل ہونا- میں نے گزشتہ اشتہار میں ثابت کیا تھا کہ یہ دونوں باتیں قرآن کریم اور حدیث سے ثابت ہیں اور مباہلہ کے نتائج کو زیادہ واضح کرنے کے لئے ان کا ہونا نہایت ضروری ہے- سید صاحب نے ان دونوں باتوں سے اپنے تازہ اشتہار میں بھی انکار کیا ہے بلکہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ یہ دونوں امر غیر ضروری ہی نہیں خلاف سنت ہیں- نقطہ نگاہ میں فرق میں سمجھتا ہوں کہ میرے اور ان کے نقطہ نگاہ میں فرق ہونے کی وجہ سے یہ سب طوالت پیدا ہو رہی ہے اور سید صاحب دانستہ ایسا نہیں کر رہے- میرا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ قرآن کریم محفوظ اور اصل جڑ کے طور پر ہے اور احادیث خواہ انسانوں نے اپنی پوری کوشش سے ان کی تصحیح کی ہو قرآن کریم پر حاکم نہیں ہیں- بلکہ اگر الفاظ قرآنیہ کے خلاف ہوں گو ظاہراً انہیں کس قدر بھی صحت کا مقام حاصل ہو قرآن کریم کو مقدم کرنا پڑے گا اور احادیث کو اس کے تابع کرنا ہوگا- سید صاحب کا نقطہ نگاہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کے الفاظ سے خواہ کچھ نکلتا ہو اگر حدیث میں ایک مضمون آ گیا ہو تو قرآن کریم کے الفاظ کی تفسیر حدیث کے مطابق کرنی ہوگی- میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ کونسا نقطہ نگاہ صحیح ہے کیونکہ یہ ایک نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہو جائے گی اور ہم اصل مضمون سے دور جا پڑیں گے- درمیانی راہ پس میں ایک درمیانی راہ پیش کرتا ہوں جو یہ ہے کہ خواہ حدیث کو تفسیر میں مقدم درجہ دیا جائے تو بھی اس امر کے تسلیم کرنے میں تو کسی کو کوئی عذر نہ ہوگا کہ اگر حدیث الفاظ قرآنی کے مخالف نہ ہو اور الفاظ قرآنی سے لغت عرب کے قواعد کے مطابق حدیث کے بیان کردہ مضمون سے بعض زائد باتیں نکلتی ہوں تو ان زائد باتوں کو تسلیم کرنا حدیث کے خلاف عمل کرنا نہیں کہلائے گا- مباہلہ سے قبل فریقین کا اپنے اپنے دلائل بیان کرنا اس اصل کے ماتحت سید صاحب اگر غور کریں گے تو دونوں سوال حل ہو جائیں گے- مثلاً پہلا سوال یہ ہے کہ مباہلہ سے پہلے دونوں فریق