انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 259

۲۵۹ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل اجلاس کر کے زمینداروں کی مشکلات پر غور کرے اور ان کے علاج نکالے اور جن تدبیروں پر ملک کا اکثر حصہ اتفاق کرے ان پر عمل کرنا شروع کر دیا جائے- اگر زمینداروں کے بچے آج سے ایک یا دو پشت کے بعد زمینداہ چھوڑ کر دوسرے کام پر مجبور ہوں گے تو کیوں دو نسلوں کو تباہ ہونے دیا جائے‘ کیوں نہ آج ہی سے اپنی اصلاح کی فکر کی جائے- دوسرا سبب دوسرا مستقل سبب جو ہمارے ملک کی اقتصادی حالت کو خراب کرنے کا موجب ہے یہ ہے کہ حکومت پیداوار پر نہیں بلکہ زمین پر اور پیداوار کے مطابق نہیں بلکہ مقررہ رقم کی صورت میں معاملہ لیتی ہے- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چھوٹے زمیندار بالعموم معاملہ دینے کی بھی توفیق نہیں پاتے- اگر پیداوار کے مطابق معاملہ ہوتا تو آج کسی عارضی انتظام کیلئے کسی زمیندارہ کانفرنس کی ضرورت نہ ہوتی- اگر دس روپے کی کاشت زمیندار کرتا تو گورنمنٹ اس میں سے اڑہائی روپیہ لے لیتی- مگر موجودہ صورت میں تو بعض جگہ پر گورنمنٹ کا آبیانہ اور معاملہ پیداوار سے زیادہ ہو جاتا ہے- زمیندار اب خود کہاں سے کھائے اور اپنے بیوی بچوں کو کہاں سے کھلائے- گورنمنٹ کیا کرے پس ہمیں گورنمنٹ کے سامنے یہ سوال پیش کرنا چاہئے کہ دو تجویزوں میں سے ایک کو وہ اختیار کرے- یا تو وہ یہ کرے کہ معاملہ مقرر نہ ہو بلکہ پیداوار کی قیمت کے لحاظ سے اس کی ہر سال تعیین ہوا کرے- یعنی بٹائی کے اصول کے مطابق اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تو پھر اس کو یہ چاہئے کہ معاملہ زمین کی پیداوار کے مطابق نہ ہو بلکہ پہلے ہر زمیندار کو اس کے کھانے پینے کے لئے ایک حصہ زمین کا چھوڑ دیا جائے- مثلاً یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ اوسطاً ایک خاندان کے گزارہ کے لئے دس ایکٹر زمین کی ضرورت ہے پس جو زمیندار دس ایکٹر سے کم زمین پر کاشت کر رہے ہیں ان سے کسی قسم کا کوئی معاملہ وصول نہ کیا جائے- جن زمینداروں کی کاشت اس سے زیادہ ہو ان کی زمین میں سے دس ایکٹر زمین پر کوئی معاملہ نہ ہو اس سے زائد پر پھر معاملہ لیا جائے- میرا یہ مطلب نہیں کہ دس ایکٹر میرے نزدیک صحیح اندازہ ہے- میں نے صرف اس کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے- میرے خیال میں بہتر ہو گا کہ ہم نصف مربع زمین کے لئے مطالبہ کریں کہ وہ زمیندار کے گزارے کے لئے چھوڑ دیا جائے جو اس سے زائد زمین ہو اس پر معاملہ لیا جائے- کوئی وجہ نہیں کہ جب گورنمنٹ تاجر کی آمد میں سے ایک حصہ بغیر انکم ٹیکس کے چھوڑ دیتی ہے اور