انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 260

۲۶۰ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل صرف دو ہزار روپیہ سے زائد آمد والے روپیہ والوں پر ٹیکس لگاتی ہے تو کیوں نہ زمینداروں کے لئے وہی صورت بہم نہ پہنچائی جائے- جب تک ہم اس قسم کی کوئی سکیم گورنمنٹ سے منظور کرانے میں کامیباب نہیں ہوں گے‘ زمیندار مستقل طور پر اقتصادی تباہی سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے- تیسرا سبب تیسرا سبب جو ہمارے ملک کے زمینداروں کی اقتصادی خرابی کا موجب ہے وہ یہ ہے کہ زمیندار حساب نہیں رکھتے- وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ فلاں فلاں ضرورت ہمارے سامنے پیش آئی ہے اور اس کو ہم نے پورا کرنا ہے اور اس امر کے متعلق خیال نہیں کرتے کہ وہ ضرورتیں پوری انہوں نے کہاں سے کرنی ہیں- نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک سال ان کو دس ہزار کی آمدن ہوتی ہے تو اس کو وہ اسی سال خرچ کر دیتے ہیں اور دوسرے سال اگر انہیں ایک ہزار روپیہ آمدن ہوتی ہے تو وہ اپنی باقی پیش آمدہ ضرورتوں کے لئے قرض لے لیتے ہیں- حالانکہ صحیح طریق زندگی بسر کرنے کا یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ اپنی پانچ سات سالہ حقیقی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اوسط آمد کا اندازہ نکال لیتے- اسی طرح وہ اپنی ضرورتوں میں اپنی مستقل اور عارضی ضرورتوں کو ملحوظ رکھ کر اپنا ایک اوسط خرچ نکال لیتے- اس صورت میں وہ آسانی کے ساتھ اپنے خرچ کو اپنی آمد کے ماتحت لا سکتے تھے لیکن زمینداروں میں سے غالباً ایک بھی ایسا نہیں کرتا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ قریباً ہر ایک زمیندار مقروض ہے- عجیب بات ہے کہ مزدوروں میں سے اتنے مقروض نہیں نکلیں گے جتنے زمینداروں میں مقروض نکلیں گے- حالانکہ ہمارے ملک کے مزدور بھی بہت کم مزدوری پاتے ہیں- وجہ اس کی یہی ہے کہ مزدور کو اپنی مزدوری کا انذارہ معلوم ہوتا ہے اس لئے وہ اپنے خرچ کو اپنی آمد کے نیچے رکھتا ہے- لیکن زمیندار کو اپنی آمد کا اندازہ معلوم نہیں ہوتا پس جو زمیندار کہ اپنے خرچ کو اپنی آمد کے مطابق رکھ سکتا ہے وہ بھی ایسا نہیں کرتا اور مقروض رہتا ہے- پس اگر ہمارے ملک کے زمیندار آرام کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ اپنی اوسط آمدنی نکالیں اس اوسط آمدن کے ماتحت اپنے اخراجات رکھیں اور اخراجات میں شادی‘ بیاہ‘ بیماری وغیرہ کے اخراجات کو بھی شامل کر لیں کیونکہ جس سال شادی یا بیاہ کا موقع پیش آئے گا اس سال ان کی فصل خاص طور پر زیادہ نہیں ہو جائے گی اور یہ بھی مدنظر رکھیں