انوارالعلوم (جلد 12) — Page 230
۲۳۰ ان امور میں بھی انشاء اللہ ہمیں کامیابی حاصل ہوگی- لیڈروں سے وفاداری کا تقاضا قیدیوں کی آزادی گو سیاسی حقوق سے تعلق نہیں رکھتی لیکن ہر قوم جو زندہ رہنا چاہتی ہو‘ اس کا فرض ہے کہ اپنے لیڈروں اور کارکنوں سے وفاداری کا معاملہ کرے اور اگر قومی کارکن قید رہیں اور لوگ تسلی سے بیٹھ جائیں تو یہ امر یقیناً خطرناک قسم کی بیوفائی ہوگا- مسلمانان جموں و کشمیر کو یاد رکھنا چاہئے کہ گو وہ بہت سے ظلموں کے تلے دبے چلے آتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی حالت یتیموں والی نہ تھی کیونکہ جب تک ان کے لئے جان دینے والے لوگ موجود تھے وہ یتیم نہ تھے- لیکن اگر وہ آرام ملنے پر اپنے قومی کارکنوں کو بھول جائیں گے تو یقیناً آئندہ کسی کو ان کے لئے قربانی کرنے کی جرات نہ ہوگی اور اس وقت یقیناً وہ یتیم ہو جائیں گے- پس انہیں اس نکتہ کو یاد رکھنا چاہئے اور ملک کی خاطر قربانی کرنے والوں کے آرام کو اپنے آرام پر مقدم رکھنا چاہئے- پس ان کا یہ فرض ہے کہ جب تک مسٹر عبداللہ‘ قاضی گوہر رحمن اور ان کے ساتھی آزاد نہ ہوں‘ وہ چین سے نہ بیٹھیں- اور میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس کام میں میں ان کی ہر ممکن امداد کروں گا اور اب بھی اس غرض کو پورا کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہوں- مشکلات ہیں لیکن مسلمان کو مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہئے- قومی غدّاروں کے مقابلہ کیلئے تیاری کی ضرورت یہ بھی یاد رہے کہ بعض غدار آئندہ اصلاحات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں- اہل کشمیر اگر اس فریب میں آ گئے اور آئندہ کونسلوں میں مسٹرعبداللہ کے دشمن اور قومی تحریک کے مخالف ممبر ہو گئے تو سب محنت اکارت جائے گی اور مسٹر عبداللہ اور دوسرے قومی کارکنوں کی سخت ہتک ہوگی- پس اس امر کے لئے آپ لوگ تیار رہیں کہ اگر خدانخواستہ قومی کارکنوں کو جلدی آزادی نہ ملی اور ان کی آزادی سے پہلے اسمبلی کے انتخابات ہوئے (گو مجھے امید نہیں کہ ایسا ہو) تو ان کا فرض ہونا چاہئے کہ قومی غداروں کے مقابلہ میں قومی کام سے ہمدردی رکھنے والوں کو امیدوار کر کے کھڑا کر دیں- اور یہ نہ کریں کہ کانگرس کی نقل میں بائیکاٹ کا سوال اٹھاویں- بائیکاٹ سے کچھ فائدہ نہ ہوگا کیونکہ آخر کوئی نہ کوئی ممبر تو ہو ہی جائے گا- اور قومی خیر خواہوں کی جگہ قومی غداروں کو ممبر بننے کا موقع دینا ہر گز عقلمندی نہ کہلائے گا- پس گو یہ ایک بہت طویل عمل ہے کہ قومی کارکنوں