انوارالعلوم (جلد 12) — Page 229
۲۲۹ جب کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں‘ ساتھ ہی ہم اس سے عاجزانہ طور پر دعا بھی کرتے ہیں کہ وہ ان رپورٹوں کے اچھے حصوں کو نافذ کرنے کی وزراء اور حکام کو مناسب توفیق بخشے- اللھم آمین مجھے یقین ہے کہ اگر مجھے صحیح طور پر اس تحریک کی راہنمائی کا موقع ملتا اور بعض امور ایسے پیدا نہ ہو جاتے کہ تفرقہ اور شقاق پیدا ہو جاتا تو نتائج اس سے بھی شاندار ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کے آگے کوئی چارہ نہیں اور پھر ہم کہہ بھی کیا سکتے ہیں- شاید جو کچھ ہوا اس میں ہمارا نفع ہو کیونکہ علم غیب تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے- زمینوں کی ملکیت کا فیصلہ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس امر کی ہے کہ زمینوں کی ملکیت ریاست سے لے کر زمینداروں کو دے دی گئی ہے- اگر سوچا جائے تو یہ کروڑوں روپیہ کا فائدہ ہے اور گو بظاہر یہ صرف ایک اصطلاحی تغیر معلوم ہوتا ہے لیکن چند دنوں کے بعد اس کے عظیم الشان نتائج کو لوگ محسوس کریں گے اور یہ امر کشمیر کی آزادی کی پہلی بنیاد ہے اور اس کی وجہ سے اہل کشمیر پر زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوگا- مجھے اس تغیر پر دہری خوشی ہے کیونکہ اس مطالبہ کا خیال سب سے پہلے میں نے پیدا کیا تھا اور زور دے کر اس امر کی اہمیت کو منوایا تھا- بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ مطالبہ مانا نہیں جا سکتا مگر اللہ تعالیٰ کا محض فضل ہے کہ آخر یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا- پریس کی آزادی وغیرہ اسی طرح پریس کی آزادی کے متعلق جدید قوانین کا وعدہ بھی ایک بہت بڑی کامیابی ہے- شاملاتوں کی ناواجب تقسیم کا انسداد‘ اخروٹ کا درخت کاٹنے کی مکمل اور چنار کی مشروط آزادی‘ لکڑی کے مہیا کرنے کے لئے سہولتیں‘ بعض علاقوں میں چرائی کا ٹیکس معاف ہونا‘ تعلیم اور ملازمتوں میں سہولتیں‘ انجمنوں کی مشکلات کا ازالہ اور ایسے ہی اور بہت سے امور ہیں کہ جن میں اصلاح ایک نہایت خوشکن امر ہے اور انشاء اللہ اس سے ریاست کشمیر کی رعایا کو بہت فائدہ پہنچے گا- بقیہ باتیں بعض باتیں ابھی باقی ہیں- جیسے وزارت کے متعلق فیصلہ‘ انجمنوں اور تقریر کی آزادی‘ مالیہ کو صحیح اصول پر لانا‘ آرڈیننسوں کو اڑانا‘ اور قیدیوں کی عام آزادی کا اعلان‘ مسلمان ہونے والی کی جائیدادوں کی ضبطی‘ جن کے متعلق فیصلہ یا نہیں ہوا یا ناقص ہوا ہے یا بالکل خلاف ہوا ہے مجھے ان کا خیال ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ آخر