انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 171

۱۷۱ آزادی تقریر ابھی جاری ہو جائے- لیکن اگر اس کا اجراء دو تین ماہ کیلئے بعض قیود کے ماتحت ہو تو معقول قیود پر اعتراض نہ ہوگا- ۴- معاملہ وکاہ چرائی و ٹیکس درختاں وغیرہ کے متعلق ایک کمیشن مقرر کر کے مزید کمی کی جائے اور جہاں مناسب چراگاہیں نہیں وہاں کاہ چرائی کا ٹیکس بالکل اڑا دیا جائے- جہاں چراگاہیں ہیں وہاں اس میں معقول تخفیف کی جائے- ۵- معاملہ کے لگانے میں جو زیادتیاں اور بے قاعدیاں ہوئی ہیں اور مسلمانوں پر زائد بوجھ ڈالا گیا ہے اس کی اصلاح کی جائے- ۶- جن جن علاقوں کے لیڈر سول نافرمانی بند کرنے کا اعلان کریں اور جہاں لوگ معاملہ دینے لگ جائیں یا دے چکے ہوں‘ وہاں سے آرڈیننس ہٹا دیا جائے- بعض افراد کے جرم قوم کی طرف منسوب نہ ہوں کثرت دیکھی جائے کہ کدھر ہے- ۷- چونکہ مسلمانوں کو واقع میں روپیہ نہیں ملتا- جن لوگوں کے پاس روپیہ نہیں معقول شرائط پر معاملہ کی ادائیگی کے لئے انہیں قرض دلوایا جائے- ورنہ جب ان کے پاس ہو ہی نہ تو انہیں مجرم قرار نہ دیا جائے- ۸- فیصلہ کر دیا جائے کہ دس سال کے عرصہ میں کم سے کم پچاس فیصدی افسر اور ماتحت عملہ قریباً مسلمانوں میں سے مقرر کیا جائے گا اور اس کیلئے ایسے قواعد تجویز ہو جائیں گے کہ اس فیصلہ پر عمل ہونا یقینی ہو جائے- ۹- جو سیاسی قیدی اس سمجھوتہ پر دستخط کر دیں ان کو رہا کر دیا جائے اور جن ملزموں کے متعلق مسلمانوں کو شبہ ہو کہ ان کا اصل جرم سیاسی ہے صرف ظاہر میں کوئی اور الزام لگایا گیا ہے ان کے کیس پر غور کرنے کے لئے ایک ایسا جج جس پر مسلمانوں کو اعتماد ہو مقرر کیا جائے- ۱۰- جو مستقل مطالبات ۱۹ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو مسلمان نمائندوں کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں‘ ان کے متعلق چھ ماہ کے اندر ریاست اپنا آخری فیصلہ شائع کر دے- (تاریخ احمدیت جلد۶ ضمیمہ نمبر۲ صفحہ ۵۱ تا ۵۳) Individual Book PDF Page 85 Single PDF Page 162 of 562 Vol Printed Page 172 **********|| ۱۷۲ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں مکتوب نمبر۲ مکرمی درد صاحب- السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ- ایک خط ابھی غزنوی صاحب کو لکھا ہے اس کے ضروری مطالب سے وہ آپ کو آگاہ کر دیں گے- جموں کے واقعات سخت قابل افسوس ہیں- بالا بالا کام سے سب کوشش کے تباہ ہونے کا اندیشہ ہے اللہ تعالیٰ رحم فرمائے- اگر اس طرح ایک جگہ کام شروع نہ کیا جاتا تو اس طرح بے دردی سے حملہ کرنے کی ریاست کے عمال کو جرات نہ ہوتی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نظام کی پابندی کی توفیق دے- سیاہ نشان کے پروگرام کے متعلق اطلاع نہیں ملی- اس طرح کشمیر کے لوگوں کی حقیقی تعداد کا جو اس تحریک سے دلچسپی لیتی ہے خوب پتہ لگ جاتا- اور دلوں میں ہر وقت آزادی کی لہر دوڑتی رہتی- نہ معلوم ابھی تک عمل شروع ہوا یا نہیں- یہ پروگرام بہترین تعمیری پروگرام ہے اور ایک رنگ میں مردم شماری- کیونکہ ہر سیاہ نشان لگانے والا بغیر ایک لفظ بولنے کے اپنے مقصد کی تبلیغ بھی کرتا اور دوسرے ایک نظر سے معلوم ہو سکتا کہ کس حد تک لوگ ہمدردی رکھتے ہیں- گویا دل بھی مضبوط ہوتے‘ پروپیگنڈا ہوتا‘ اپنوں کو اپنے اثر کا علم ہوتا اور ریاست پر رعب پڑتا- اگر عمل نہیں ہوا تو اب توجہ دلائیں- ظاہری نشانات باطنی حالتوں پر خاص روشنی ڈالتے ہیں- کل آپ کی تار قانونی امداد کے متعلق ملی ہے- پہلے لکھ چکا ہوں کہ قانونی امداد تیار ہے- لیکن سوال تو یہ ہے- (۱) مقدمات کب شروع ہوں گے- (۲) کوشش ہو کہ ایک مجسٹریٹ متواتر سنے- ( ( کمیشن کا اس وقت تک بائیکاٹ ہو جب تک پہلے کمیشن کی رپورٹ رد نہ ہو اور نئے کمیشن کو مسلمانوں کی مرضی کے مطابق نہ بنایا جائے- ورنہ دوسرا کمیشن بھی مضر ہوگا- اور جب تک مسلمانوں کی مظلومیت ثابت نہ ہو کانسٹی ٹیوشنل کمیشن پر زور سفارش نہیں کر سکتا-