انوارالعلوم (جلد 12) — Page 170
۱۷۰ غور کرنے کو تیار ہوں- انہوں نے کہا کہ اگر مہاراجہ خود بلا کر نمائندوں سے کہیں کہ کچھ دن کی اور مہلت دے دو- میں نے کہا کہ اس میں ان کی فتح ہے- میں سفارش کروں گا کہ کچھ دن اور بڑھا دو باقی اپنی مصلحت وہ خود سمجھ سکتے ہیں- اس پر انہوں نے کہا کہ اگر یوں ہو کہ کچھ مہلت مل جائے اور اس عرصہ میں وقت مقرر ہو کہ راجہ ہری کشن کول صاحب باہر آ کر آپ سے ملیں- میں نے کہا کہ مجھے ان سے ملنے کا شوق نہیں- اصل سوال تو اہل کشمیر کے خوش ہونے کا ہے اگر وہ ساتھ ہوں اور خوش ہو جائیں تو مجھے کچھ اعتراض نہیں- اس پر وہ تینوں تجویزیں لے کر گئے ہیں- لیکن جیون لال صاحب کی تار نے اور آپ کی تار نے شبہ ڈال دیا ہے اس لئے آپ لوگ بھی ہوشیار رہیں- گلنسی صاحب کے متعلق الگ ہدایات میں ذکر کروں گا- نہایت مخفی بات ہے- احرار باہر یہ مشہور کر رہے ہیں کہ قادیانی پروپیگنڈا کی وجہ سے ہمیں آنا پڑا- لیڈروں نے روپیہ کھا لیا ہے اور مصنوعی تاریں دلوا رہے ہیں کہ نمائندوں پر ہمیں اعتبار نہیں آپ لوگ اس سے بھی ہوشیار رہیں- خاکسار مرزا محمود احمد (اوپر جن تجاویز کا ذکر آیا ہے- ان کا مسودہ حضور کے قلم سے درج ذیل کیا جاتا ہے)- عارضی معاہدہ کی شرائط ۱- میر پور‘ کوٹلی‘ راجوری‘ کشمیر و پونچھ وغیرہ کے فسادات کے متعلق ایک کمیشن جس میں ایک جج مسلمان ایک ہندو اور ایک انگریز ہو مقرر کر دیا جائے- ایسے جج ہوں جن پر فریقین کو اعتماد ہو- ۲- ان علاقوں میں فوراً کم سے کم پچاس فی صدی افسر یعنی وزیر وزارت‘ سپرنٹنڈنٹ پولیس‘ انسپکٹران پولیس‘ مجسٹریٹ درجہ اول و دوم مسلمان مقرر کر دیئے جائیں اور موجودہ تمام افسر وہاں سے بدل دیئے جائیں- گورنر کشمیر کو بھی وہاں سے فوراً بدل دیا جائے- ۳- قانون‘ پریس اور ایسوسی ایشنز انگریزی اصول پر فوراً جاری کر دیئے جائیں- قانون‘