انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 158

۱۵۸ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ریاست کی جلد بازی اور بے تدبیری نے حالات بہت خراب کر دیئے اخبارات کے ایک نمائندہ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے کشمیر کے تازہ قیامت خیز حالات کے متعلق اظہار رائے کی درخواست کی- تو حضور نے بحیثیت صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی فرمایا- ہمیں ان فسادات کا ریاست سے کم افسوس نہیں لیکن ہمیں رنج اس بات کا ہے کہ ریاست کی جلد بازی سے دائمی امن کے قیام میں رخنہ پڑ گیا ہے- اگر وہ کچھ دن صبر سے کام لیتی تو یقیناً اس کے لئے مفید ہوتا- ریاست کے ناقابل ِتسلیم بیانات آپ نے فرمایا کہ مجھے افسوس ہے کہ ریاست ایسے بیانات شائع کر رہی ہے جنہیں کوئی عقلمند تسلیم نہیں کر سکتا- کہا جاتا ہے کہ مسلم لیڈر خفیہ طور پر حکومت کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں- ہر شخص جانتا ہے کہ تمام ہندوستانی ریاستیں حکومت برطانیہ کی حفاظت میں ہیں اور ان کے خلاف بغاوت برطانیہ کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے- پس یا تو ریاست کے اس اعلان کا یہ مطلب ہے کہ حکومت برطانیہ شورش برپا کرا رہی ہے- یا اس کے یہ معنے ہیں کہ کشمیر کے مسلمان اس قدر بہادر اور جنگجو ہو گئے ہیں کہ جس کام کو سرانجام دینے کی کانگرس بھی جرات نہ کر سکی‘ وہ اس کا ارادہ کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت برطانیہ اور ریاست دونوں کو برباد کریں دیں کیونکہ ریاست کی حکومت یا تو برطانیہ کی مرضی سے یا خود برطانیہ کو تباہ کر کے تباہ کی جا سکتی ہے کیا کوئی عقل مند اس قسم کی باتیں تسلیم کر سکتا ہے؟