انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 123

۱۲۳ طرف سے نہیں بلکہ کشمیر کی طرف سے مارے ہیں- جس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست نے علاقہ پر رعایا کو قبضہ دے دیا ہے- سو اللہ کے فضل سے ہم امید کرتے ہیں وہ مظلوم جو سینکڑوں سال سے ظلم و ستم کا شکار ہو رہے ہیں ان کی آہیں اور سسکیاں آسمان پر جا پہنچیں اور خدا تعالیٰ نے ظالموں سے ظلم کی آخری اینٹیں پھینکوائیں تا اس ملک پر اپنا فضل نازل کرے- ہم نے چاہا کہ مہاراجہ اور حکومت کے ادب کو قائم رکھتے ہوئے امن کے ساتھ بغیر اس کے مہاراجہ کی عزت میں فرق آئے نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ کشمیر کی تمام رعایا کو اس کے حقوق دلائیں مگر اس کے نادان وزراء نے ایسا نہ چاہا- ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم باہر رہیں گے اور اس کے گھر پر جا کر پتھر نہیں پھینکیں گے- مگر ریاست نے ہمارے علاقہ میں ہم پر پتھر پھینکوائے اور ابتداء کی- اور یہ مسلمہ ہے کہ البادی اظلم یہ پتھر کوئی چیز نہیں- بعض دوستوں کو زخم آئے ہیں یہ بھی کچھ حقیقت نہیں رکھتے- ایک صحابی کی روایت ہے- جنگ احد کے دن میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اکیلا تھا اور چاروں طرف سے اس پر حملے ہو رہے تھے- پتھر‘ نیزے اور تلواریں برس رہی تھیں پاس پہنچ کر جب میں نے دیکھا تو وہ رسول کریم ﷺ تھے- اگر دنیا میں سیادت حق اور روحانیت کے قیام کے لئے ہمارے آقا سردارﷺ نے اس مقدس وجود نے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے چنا‘ جسے اپنے قرب میں بلند ترین جگہ عطاء کی- اگر دنیا کو آزاد کرانے کے جرم میں اس آزادی کے بانی حریت کے قائم کرنے والے اور حسن کی مورت پر پتھر پھینکے گئے تو ہم لوگ جو اس کے خاک پا کے برابر بھی نہیں‘ کیا حیثیت رکھتے ہیں- جب چاند نظر نہیں آیا تو چاند کا عکس کہاں نظر آ سکتا ہے- میں بتا رہا تھا کہ یہ فتنہ پردازی خواہ کسی کے ہاتھ سے ہوئی ہو اصل محرک اور ہے- لیکن ہمارا قلب وسیع ہے ہم ان ہاتھوں کو جنہوں نے پتھر برسائے‘ ان زبانوں کو جنہوں نے اس کے لئے تحریک کی اور اس کنجی کو جو اس کا باعث ہوئی‘ معاف کرتے ہیں کیونکہ جس کام کا ہم نے بیڑا اٹھایا ہے اس کے مقابلہ میں یہ تکلیف جو ہمیں پہنچائی گئی بالکل معمولی ہے- جنگ عظیم میں بیلجیئم کو غلامی سے بچانے کیلئے جس کی آبادی کشمیر کی طرح تیس لاکھ کے قریب ہے‘ دو کروڑ آدمی مارا گیا- پس کشمیر کو آزاد کرانے کیلئے اگر ہم نے چند پتھر کھا لئے تو یہ کیا ہے- ہم نے شروع سے کوشش کی ہے کہ امن کے ساتھ کام کریں- اور آئندہ بھی یہی کوشش کرتے رہیں گے-