انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 50

۵۰ مذاہب احمدیت کی مخالفت پر آمادہ ہیں اور دنیا کی سب طاقتیں اسلام کو مٹانے کیلئے کوشاں ہیں لیکن پر امن ذرائع سے اور معجزانہ حالات کے ماتحت سلسلہ احمدیہ دنیا میں پھیل جائے گا اور اس کے ذریعہ سے اسلام کو باقی سب ادیان پر علمی غلبہ حاصل ہو گا- ۷- سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنے قرب کیلئے پیدا کیا ہے- پس اسے کسی اور واسطہ کی ضرورت نہیں ہے- واسطہ کو تسلیم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ہم اس مقصد کیلئے پیدا نہیں کئے گئے بلکہ دوسروں کا احسان ہے کہ وہ ہمیں اس مقام پر پہنچا دیتے ہیں اور اگر ہم یہ تسلیم کریں تو ماننا پڑتا ہے کہ انسانی پیدائش کا کوئی اعلیٰ مقصد ہے ہی نہیں مگر دنیا کا ذرہ ذرہ اس کے خلاف گواہی دے رہا ہے- پس حق یہی ہے کہ انسان قرب الہی کیلئے پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے کہوما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ۱۲؎ میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے عبد بن جائیں یعنی میری صفات کو اپنے اندر پیدا کریں- بائیبل نے بھی اس طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے کہ-: ‘’تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اور اپنی مانند بناویں’‘ ۱۳؎ ۸- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ نجات کسی ایک قوم یا ایک ملک کے لوگوں کا حق نہیں بلکہ سب بنی نوع انسان خدا تعالیٰ کے فضل کے یکساں مستحق رہے ہیں اور اس وجہ سے یہ خیال کہ خدا تعالیٰ نے ہدایت کو صرف بنی اسرائیل میں یا عربوں میں یا ہندوستانیوں میں محصور کر دیا ایک لغو اور بیہودہ خیال ہے- سب انسان خدا تعالیٰ کے بندے ہیں اور جس طرح اس کا سورج سب کیلئے چڑھتا ہے اسی طرح اس کی ہدایت بھی سب کیلئے ہے- ہاں خود انسانوں کے فائدہ کیلئے اس نے پہلے مختلف اقوام کی طرف الگ الگ انبیاء ارسال کئے اور آخر میں جب انسان خدا تعالیٰ کی سب باتوں کو سمجھنے کے قابل ہو گیا تو اس نے وہ ‘’روح حق’‘ بھیجی جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور جس کی نسبت انجیل میں آتا ہے کہ-: ‘’میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے- لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتاوے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی وہ میری بزرگی کرے گی اس لئے کہ وہ میری چیزوں سے پاوے گی اور تمہیں دکھاوے گی’‘- ۱۴؎