انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 47

۴۷ باب سوم یورایکسیلنسی! میں آپ کو اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی دعوت دینے کے بعد اور یہ بتانے کے بعد کہ سلسلہ احمدیہ ان پیشگوئیوں کو پورا کرتا ہے جو اناجیل میں مسیح کی آمد ثانی کے متعلق مذکور ہیں اختصار کے ساتھ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سلسلہ احمدیہ کی تعلیم کیا ہے تا کہ آپ اس کے مقصد اور اس کی غرض سے واقف ہو جائیں- ۱- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جو اپنے دوبارہ آنے کی خبر دی تھی وہ بانی سلسلہ احمدیہ کے وجود میں پوری ہو گئی ہے اور یہ کہ دنیا کا نیا دور اب اسی تعلیم پر مبنی ہوگا جو مسیح موعود علیہ السلام نے دی ہے- ۲- سلسلہ احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق جس نجات دہندہ نے دنیا کو خدا تعالیٰ کی آخری شریعت سکھانے کیلئے آنا تھا وہ محمد رسول اللہ ﷺ بانی مذہب اسلام تھے آپﷺ کے وجود میں گزشتہ انبیاء کی سب پیشگوئیاں پوری ہو گئیں- آپﷺ آخری شریعت لانے والے رسول تھے اور قرآن کریم آخری شریعت کی کتاب ہے- آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی اور ایسا رسول نہ نیا نہ پرانا آ سکتا ہے جس نے آپ سے فیض حاصل نہ کیا ہو اور جس کا کام آپ کا کام نہ کہلا سکتا ہو کیونکہ دنیا کی ابدی استادی کا مقام صرف آپﷺکو ہی حاصل ہے اور کوئی شخص اس میں آپﷺکا شریک نہیں ہو سکتا‘ اور اسی وجہ سے آپﷺ‘’نبیوں کی مہر’‘ کہلاتے ہیں- ۳- مذکورہ بالا عقیدہ کے ماتحت سلسلہ احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح موعود کا کام صرف قرآن کریم کی تشریح اور اس کے مطالب کا ہی بیان تھا ورنہ اس نے کوئی جدید تعلیم نہیں دینی تھی بالکل اسی طرح جس طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا یہ کام تھا کہ وہ تورات کی تشریح کرتے جیسا کہ خود انہوں نے بیان فرمایا ہے کہ-: یہ خیال مت کرو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا- میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں-۱۰؎