انوارالعلوم (جلد 12) — Page 35
انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۵ تحفه نار ڈارون اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ باب اول پورا ایکسیلنسی ) خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هو النَّاصِرُ ی ( YOUR EXCELLENCY دنیا کے دستور کے خلاف اور خودا خود اپنے سلسلہ کے دستور کے خلاف میں اس وقت سلسلہ احمدیہ کی طرف سے آپ کے ہندوستان اور وائسرائلٹی (VICEROYALTY) کے عہدہ کی عنان چھوڑتے وقت بجائے کسی ایڈریس کے یہ کتاب بطور تحفہ پیش کرتا ہوں۔ اس سے پہلے برطانوی حکومت میں سے کسی وائسرائے کیلئے سلسلہ احمدیہ کی طرف سے کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ ہاں ملکہ وکٹوریہ آنجہانی اور ہمارے موجودہ پرنس آف ویلز کیلئے کتب لکھی گئی ہیں۔ ملکہ وکٹوریہ کیلئے خود بانی سلسلہ احمدیہ نے کتاب لکھی تھی اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھا تھا۔ اور پرنس آف ویلز کیلئے ان کے ورود ہند کے موقع پر میں نے کتاب لکھی تھی جس کا نام تحفہ ویلز رکھا گیا تھا اور جسے انہوں نے لاہور کے مقام پر قبول فرمایا تھا۔ پس اس کتاب کی تحریر اور پیشکش میں سلسلہ احمدیہ آپ کی خدمات کا غیر معمولی رنگ میں اعتراف کرتا ہے۔ دنیا کے دستور کو مد نظر رکھتے ہوئے شاید یہ ایک عجیب سی بات معلوم ہو کہ بجائے کسی عمارت یا محکمہ کے ایک کتاب کی صورت میں یادگار قائم کی جائے اور بجائے ایڈریں کے رسالہ کے ذریعہ سے اعتراف خدمات کیا جائے ۔ لیکن عمارات یا محکمہ جات مادی اشیاء ہیں اور ایک روحانی سلسلہ کی طرف سے بہترین یادگار ایک علمی یاد گار ہی ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں ہمارا یہ یقین ہے کہ ہر ایک تصنیف جو بانی سلسلہ احمدیہ نے کی ہے یا ان کے خلفاء کی طرف سے کی گئی ہے یا کی جائے گی خدا تعالیٰ کی طرف سے خلعت دوام پائے گی۔ اور اس سلسلہ کی روزانہ بڑھنے والی تعداد اسے ہمیشہ کیلئے بطور یادگار محفوظ رکھے گی۔ پس سلسلہ احمدیہ کے امام کی طرف سے ایک کتاب کا لکھا جانا زیادہ مناسب اور زیادہ پائیدار یادگار ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اس