انوارالعلوم (جلد 12) — Page 608
۶۰۸ چاہئے- میں ابھی ایسا تو نہیں کر سکتا مگر اسی دن پر نہیں رہنا چاہئے بلکہ جب تک دوسری دفعہ یوم التبلیغ آئے‘ اپنے طور پر بھی تبلیغ کرتے رہنا چاہئے مگر یاد رکھنا چاہئے صرف مونہہ کی باتوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے بھی تبلیغ کرو- تبلیغ اپنے اعمال میں درستی بھی پیدا کرتی ہے- جب دوسروں کو انسان تبلیغ کرتا ہے تو اسے اپنے متعلق شرم آ جاتی ہے کہ مجھے بھی اصلاح کرنی چاہئے- پس تبلیغ کرنا نہ صرف جماعت کی ترقی کا موجب ہے بلکہ اپنی اصلاح کا بھی موجب ہے- عبادات چوتھی بات جس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ عبادات ہیں- عبادت انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرتی ہے- خدا کے فضل سے جماعت کی اس طرف توجہ ہے مگر پھر بھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگوں میں کمزوری ہے- ایک احمدی کا بھی نماز نہ پڑھنا- یا نماز پڑھنے میں سستی کرنا میرے نزدیک قومی ہلاکت کے مترادف ہے- ہر ایک احمدی کو نہ صرف نماز کا بلکہ باجماعت نماز کا خیال رکھنا چاہئے- رسول کریم ﷺ نے با جماعت نماز کا بہت زیادہ ثواب بتایا ہے-۱۶؎ ہر احمدی کو چاہئے کہ نماز کی پابندی کرے اور کرائے اور بھی عبادات ہیں- مثلاً رمضان کے روزے ہیں- ذکر الہی بھی بہت ضروری اور مفید چیز ہے- ایک صحابی کہتے ہیں ذکر الہی دل کو صیقل کرتا ہے- اس کی طرف ہماری جماعت کے لوگوں کو اتنی توجہ نہیں جتنی ہونی چاہئے- سلسلہ کا لٹریچر پڑھنے کی تاکید مذہبی طور پر‘ میں یہ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مذہبی روح کے لئے سلسلہ کا لٹریچر نہایت ضروری چیز ہے مگر افسوس کہ جماعت کی عدم توجہی کی وجہ سے لٹریچر اتنا شائع نہیں ہوتا جتنا ہونا چاہئے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوہ والسلام کی کئی کتابیں ایسی ہیں کہ جن کے اس وقت تک صرف ایک ایک دو دو ایڈیشن شائع ہوئے ہیں- یہ خطرناک علامت ہے- دوستوں کو چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوہ والسلام کی کتب خصوصیت سے زیادہ پڑھا کریں اور بکثرت اپنے گھروں میں رکھیں یہ ان کے لئے اور ان کی اولاد کے لئے نہایت قیمتی خزانہ ہے- پھر سلسلہ کے اخبارات بھی خریدنے چاہئیں ‘’الفضل’‘ کی پندرہ سال قبل جتنی اشاعت تھی اتنی ہی اب بھی ہے حالانکہ پچھلے دس سال کے متعلق ہمارا اندازہ نہیں بلکہ گورنمنٹ کی رپورٹ کہتی ہے کہ جماعت دوگنی ہو گئی ہے- مگر الفضل کی اشاعت اتنی ہی ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت نے الفضل کے متعلق اپنی ذمہ واری کو محسوس نہیں کیا- مذہب کو قائم رکھنے کے لئے