انوارالعلوم (جلد 12) — Page 607
۔} ۶۰۷ کی مثال اپنے لئے قرار دے سکتا ہے- غور کرو- کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام عادتا تعویذ نہ لکھا کرتے تھے- نہ رسول کریم ﷺ نے ایسا کیا نہ آپ کے خلفاء نے پھر نہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے کیا اور نہ میں کرتا ہوں- اگر کسی کو یہ دعویٰ ہے کہ اس کا تعویذ لکھنا موثر ہو سکتا ہے تو وہ آئے اور لکھے میں اس کے مقابلہ میں صرف ہاتھ لگا دوں گا اور خدا تعالیٰ اس سے فضل کرے گا- دراصل دعا کی جڑ انکساری اور تذلل ہے اور تعویذ اس کی جڑ کو کاٹ دیتا ہے- اگر کوئی بات پوری بھی ہو جائے تو تعویذ لکھنے لکھانے والے یہ نہیں کہیں گے کہ خدا تعالیٰ نے دعا قبول کی بلکہ یہی کہیں گے کہ تعویذ کی برکت سے ایسا ہوا اور یہ شریک ہے- خدا تعالیٰ نے جو تعویذ دیا ہے اس پر کیوں عمل نہیں کیا جاتا- مثلاً ہر قسم کی تکلیف بیماری وغیرہ کے وقت یہ پڑھا کرو- قل اعوذ برب الفلق من شرما خلق و من شر غاسق اذا وقب ومن شرالنفثت فی العقد ومن شر حاسد اذا حسد- ۱۵؎ ایک دفعہ دعا لکھ کر یہ سمجھ لینا کہ اس کا اثر ہوتا رہے گا وہی بات ہے جو ایک ہندو کے نہانے کے متعلق مشہور ہے جس نے سردی کے موسم میں دریا سے واپس آتے ہوئے پنڈت سے یہ کہہ کر تور اشنان سومور اشنان سمجھ لیا تھا کہ میرا بھی اشنان ہو گیا- تعویذ بھی یہی ہوتا ہے کہ لکھا کر رکھ لیا اور سمجھ لیا کہ اب دعا کرنے سے فراغت حاصل ہو گئی- اس قسم کی گندی باتوں کو مٹانا ہمارے فرائض میں داخل ہے کیونکہ یہ اس صحیح سپرٹ کو مٹانے والی ہوتی ہیں جسے پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے نبی آتے ہیں- اگر ان باتوں سے کوئی فائدہ ہوتا ہے تو وہم کی وجہ سے ہوتا ہے مگر وہم کو ترقی دینا سخت نقصان رساں ہے- تبلیغ احمدیت تیسری چیز جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ تبلیغ ہے- اس سال یوم التبلیغ کا اعلان کیا گیا تھا یہ اتنا بابرکت ثابت ہوا ہے کہ کئی لوگ جنہوں نے سالہا سال سے تبلیغ نہ کی تھی انہوں نے بھی اس دن تبلیغ کی- ابھی چند دن ہوئے ایک نواب صاحب آئے تھے ان کے ساتھ ایک معزز صاحب تھے جنہوں نے بچت کی اور کہا یہ نواب صاحب کے یوم التبلیغ منانے کا نتیجہ ہے- دس بارہ سل سے ان سے میرا تعلق تھا لیکن کبھی انہوں نے تبلیغ نہ کی تھی- اس دن جو میں ان کے پاس گیا تو کہا آج ہمیں تبلیغ کرنے کا حکم ہے اور خوب تبلیغ کی اسی دن میں نے بیعت کر لی- اس دن ایسی مزیدار تبلیغ ہوئی کہ کئی دوستوں نے خواہش ظاہر کی کہ یہ دن بار بار آنا