انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 606 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 606

۶۰۶ اوہام کا مقابلہ کیا جائے دوسری ضروری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اوہام کا مقابلہ کیا جائے نبی اس لئے آتے ہیں کہ دنیا سے اوہام مٹائیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں پائے جاتے ہیں- کل ہی ایک سوال پیش کیا گیا کہ جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو تعویذ اور ٹونے کرتے ہیں‘ کیا یہ جائز ہے- میرے نردیک یہ نہایت ہی کمزوری ایمان کی علامت ہے- بعض لوگ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام نے بھی ایک تعویذ دیا تھا- اس میں شبہ نہیں کہ دیا تھا مگر وہ واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ نورالدین صاحب جموں والے کے ہاں کوئی لڑکا نہ تھا انہوں نے مجھے کہا کہ میں حضرت صاحب سے ان کو تعویذ لے دوں- میری اس وقت بہت چھوٹی عمر تھی میں حضرت صاحب کے پیچھے پڑ گیا آپ نے دعا لکھ کر دی جو میں نے خلیفہ صاحب کو دے دی وہ دعا قبول ہو گئی اور خلیفہ صاحب کو خدا تعالیٰ نے نرینہ اولاد دی- دراصل وہ دعا جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوہ والسلام نے لکھی اسی وقت قبول ہو چکی تھی- آگے اس تعویذ کو باندھنا خلیفہ صاحب کا کام تھا اس کا دعا کی قبولیت سے کوئی تعلق نہ تھا- پس لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ اگر دعا کو لکھ لیا جائے اور لٹکا دیا جائے تب وہ قبول ہوتی ہے بیہودہ وہم پیدا کرتا اور ذکر الہی کرنے کی جڑ کاٹتا ہے- دعا لکھنا تو منع نہیں لیکن جس کی دعا میں یہ اثر نہیں کہ ایک سیکنڈ میں قبول ہو اس سے دعا لکھا کر یہ سمجھنا کہ اب ہم دعا کرنے سے فارغ ہو گئے بہت بڑی غلطی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے محروم کر دینے والی بات ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی جو مثال پیش کی جاتی ہے- اس کے متعلق یہ بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوہ والسلام کی وہ شان تھی کہ خدا تعالیٰ آپ کی دعا ایک سیکنڈ میں قبول کر لے مگر آپ نے بھی اپنے طور پر کبھی دعا لکھ کر نہ دی تا کہ غلط مثال نہ قائم ہو جائے بلکہ میرے اصرار پر ایک بار لکھی- دراصل تعویذ ایک قسم کا خیالی مسمریزم ہے اور اگر دعا ہے تو دعا لکھوا کر یہ سمجھ لینا کہ اب ہم فارغ ہو گئے دعا کرنے کی ضرورت نہیں رہی ایک بیہودہ بات ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام سے تو خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا اجیب کل دعائک الا فی شرکائک۱۴؎ اور خلیفہ نورالدین صاحب آپ کے شرکاء میں سے نہ تھے ان کے متعلق آپ نے جو دعا کی وہ قبول ہوگئی مگر یہ کسی اور کو تو نہیں کہا گیا پھر وہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوہ والسلام