انوارالعلوم (جلد 12) — Page 600
۶۰۰ سوال سختی سے اٹھایا جاتا ہے حتی کہ ہم تو قوم در قوم کے اختلاف سن کر چکرا جاتے ہیں- ہماری جماعت کو چاہئے نیچے والوں کو اوپر اٹھایا جائے اور اوپر والوں کو نیچے لایا جائے- اصل بات تو یہ ہے کہ نہ کوئی اوپر ہے اور نہ کوئی نیچے سب برابر ہیں لیکن سمجھا جاتا ہے کہ قومیت کے لحاظ سے بعض لوگ اوپر ہیں اور بعض نیچے اس لئے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ آپس میں مل جائیں- یہ دو بھائیوں میں لڑائی والا معاملہ ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ فلاں بھائی چل کر دوسرے کے گھر جائے- بلکہ مشہور شاعر ذوق کی طرح یہ کہتے ہیں- بعد مدت کے گلے ملتے ہوئے آتی ہے شرم اب مناسب ہے یہی کچھ تم بڑھو کچھ ہم بڑھیں جن قوموں کو ایک دوسرے کے قریب سمجھا جاتا ہے انہیں چاہئے کہ آپس میں شادیاں شروع کر دیں تا کہ قومیت کے بیجا پابندیاں کسی قدر تو ڈھیلی ہو جائیں اور اس طرح قومیت کی اونچ نیچ کو مٹانے کی کوشش کی جائے- لڑکی والوں کا شادی سے قبل کچھ لینا حرام ہے دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شادی کے موقعہ پر روپیہ وغیرہ لینے کی رسم بھی پائی جاتی ہے اور یہ بات بردہ فروشی سے کم نہیں ہے- جو شخص لڑکی کی شادی کے سلسلہ میں روپیہ وغیرہ لیتا ہے اس کی عقل پر پردہ پڑ جاتااور اس کی آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے وہ لڑکے کی خوبیاں نہیں دیکھتا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ مجھے کتنا روپیہ ملتا ہے- ہم کہتے ہیں- وہی روپیہ نہیں جو لڑکی کی ملکیت ہو بلکہ وہ بھی جو داماد کی ملکیت ہو لے لے مگر شادی کے بعد- شادی سے قبل کچھ لینا قطعاً ناجائز ہے- بردہ فروشی ہے اور یہ حرام ہے- بٹہ کی مذموم رسم دوسری رسم بٹہ کی ہے- ملتان‘ جھنگ وغیرہ اضلاع جن میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے‘ وہاں یہ مرض جاری ہے اس کا نتیجہ بھی بردہ فروشی ہے- لڑکی کے لئے اچھا رشتہ ہو تو اس لئے نہیں لیتے کہ لڑکے کے لئے بھی رشتہ ملنا چاہئے اور جہاں سے لڑکے کے لئے رشتہ مل جائے‘ وہاں لڑکی کا رشتہ کر دیتے ہیں خواہ وہ لڑکی کے لئے رشتہ موزون نہ ہو- یہ بات بھی بہت بری ہے اسے بھی دور کرنا چاہئے- بیاہ شادی میں سادگی اختیار کرو تیسری بات یہ ہے کہ بیاہ شادی میں سادگی نہیں اختیار کی جاتی اس سے بھی خطرناک نقصان ہوتا ہے- اس کا