انوارالعلوم (جلد 12) — Page 590
انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۹۰ بعض اہم اور ضروری امور ہیں ، ہندوستانی ہندوستان کی حکومت سنبھال لیں۔ ان حالات میں نہایت ہی نازک وقت آیا ہوا ہے ایسا نازک کہ اگر ذرا کو تاہی کی گئی تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ایک ایسی منتظم قوم جسے سالها سال سے یہ بتایا جا رہا ہے جا رہا ہے کہ مسلمان تمہارے دشمن ہیں، وہ مسلمانوں کے خلاف کھڑی ہو جائے گی۔ ”ہندو راج کے منصوبے " کتاب میں جو مہاشہ فضل حسین صاحب نے شائع کی ہے، بڑے بڑے ہندو لیڈروں کے بہت سے اس قسم کے بیانات درج کر دیتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو کچل کر رکھ دو یا اپنے اندر شامل کر لو اور ہندوستان میں ہندو راج قائم کرلو۔ ان حالات میں نہایت ہی تاریک مستقبل نظر آتا ہے۔ جس نہایت ہی تاریک مستقبل سے ڈر آتا ہے اور خطرناک ڈر اس لئے نہیں کہ اسلام کو مٹا دیا جائے گا یہ تو نا ممکن ہے بلکہ اس لئے کہ جس طرح حضرت مسیح ناصری کے انکار کی وجہ سے رومیوں کو کچل دیا گیا تھا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے مسلمانان ہند کو نہ کچل کر رکھ دیا جائے۔ خدا تعالیٰ نے ان کی امداد اور اصلاح کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا آپ نے ایک جماعت قائم کی، عقل و سمجھ رکھنے والے لوگ مانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اچھا کام کیا اور آپ کی جماعت اچھا کام کر رہی ہے مگر اس کے ساتھ شامل نہیں ہوتے۔ یہ مانتے ہیں کہ جماعت احمد یہ بڑی منتظم جماعت ہے اس نے بڑا کام کیا ہے مگر ساتھ ہی کہتے ہیں اسے کچل دینا چاہئے۔ ان حالات میں مسلمانان ہندوستان کے متعلق جس قدر خطرات ہو سکتے ہیں ، ان کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ایک طرف مسلمانوں کی پراگندگی اور آپس کے لڑائی جھگڑے اور دوسری طرف ہندوؤں کی ان کے خلاف تنظیم کوئی معمولی خطرہ کی بات نہیں۔ مسلمانان کشمیر پر جو مظالم کئے گئے وہ بھی ہندوؤں کی اس سکیم کے مسلمانان کشمیر پر مظالم ماتحت کئے گئے جو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف تجویز کر رکھی ہے۔ موجودہ مہاراجہ صاحب نے پہلے جب حکومت ہاتھ میں لی تو ان کی توجہ مسلمانوں کی کمزور حالت کی اصلاح کی طرف تھی وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ترقی کریں مگر ہندو لیڈروں نے جب یہ طے کیا کہ پہلے ہندو ریاستوں میں مکمل ہندو راج قائم کرنا چاہئے تو انہوں نے راجوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا ۔ کشمیر میں بھی یہی کیا گیا اس کے بعد الور میں کیا جا رہا ہے۔