انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 591

۵۹۱ ہماری مشکلات ہمارے لئے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ہمارے اصول ایسے ہیں جن کے لحاظ سے ہم دوسرے مسلمانوں سے بعض باتوں میں تعاون نہیں کر سکتے- مثلاً ہمارا ایک اصل یہ ہے کہ کسی حکومت کے خلاف بغاوت اور قانون شکنی میں دوسرے مسلمانوں کا ساتھ نہ دیں تو اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے والے اور کوئی کام نہ کرنے والے ہمیں قومی غدار قرار دینے لگ جاتے ہیں اور عوام کو ہمارے خلاف بھڑکانا شروع کر دیتے ہیں- پھر جس حکومت سے مقابلہ ہو اس کے افسر ضد اور تعصب کی وجہ سے احمدیوں پر بے جا تشدد اور ظلم شروع کر دیتے ہیں- کشمیر میں ایسے واقعات ہوئے- مثلاً ایک احمدی کو سخت مارنے پیٹنے کے علاوہ بالکل ننگا کر کے اس کی عورت کے سامنے کھڑا کر دیا گیا اور عورت کو بھی ننگا کیا گیا- ہمیں اس قسم کے جہالت اور وحشت کے واقعات بھی دیکھنے پڑیں گے مگر باوجود اس کے ہم کام کئے جائیں گے- ہر قدم پر خطرہ ہمیں یہ یقین رکھنا چاہئے کہ ہمیں ہر قدم پر خطرہ ہے- ہم مسلمانوں کے لئے خواہ کتنی قربانیاں کریں ایسا موقع آئے گا جب وہ کہیں گے ان کو مارو اور کچلو اس وقت کمزور دل کہیں گے کیا ہمیں اس قوم کی مدد کرنے کے لئے کہا جاتا ہے جو ہماری ہی دشمن ہے اور ہمیں ہی کچلنا چاہتی ہے- مگر یاد رکھنا چاہئے ہم اس خدا کے بندے ہیں جو کافروں اور دہریوں کی بھی ربوبیت کرتا ہے ہمیں اس قسم کے نظاروں سے گھبرانا نہیں چاہئے اگر ہم رب العالمین کے بندے ہیں تو ہمارے حوصلے بہت وسیع اور ہماری ہمتیں بہت بلند ہونی چاہئیں- مسلمانانِ ہند کی سیاسی نجات میرے نزدیک ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی نجات بھی احمدیوں سے ہی وابستہ ہے- مسلمانوں میں بعض دیانتدار لیڈر ہیں جو قوم کا درد رکھتے ہیں مگر وہ استقلال سے کام نہیں کر سکتے جلد گھبرا جا تے ہیں اور کہہ اٹھتے ہیں لڑ مرو حالانکہ مسلمان کا کام لڑ مرنا نہیں بلکہ لڑ مارنا ہے- خدا کا بندہ مقابلہ میں کیوں مرے‘ مرنا تو دشمن کے لئے ہے- مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت ہمیں سیاسی معاملات میں حصہ لیتے ہوئے تین مشکلات کو مدنظر رکھنا چاہئے- پہلی مشکل مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے متعلق ہے- ہماری ذمہ واری ہو گی کہ ہم مسلمانوں کے حقوق کی