انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 577

۵۷۷ طور پر نہیں ہوتا بلکہ عبادت کیلئے ہوتا ہے- دوسرے سفروں میں تو عبادت میں تخفیف ہو جاتی ہے مگر یہاں کا سفر چونکہ عبادت کیلئے کیا جاتا ہے اس لئے یہاں عبادت زیادہ کرنی چاہئے- پس جلسہ پر آنے والے دوست ان ایام میں ذکر الہی اور دعاؤں پر بہت زور دیں تا کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو بابرکت ثابت کرے- مقبرہ بہشتی میں جانا دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو دوست آتے ہیں وہ مقبرہ بہشتی میں ضرور جایا کریں- اللہ تعالیٰ کے حکم سے مقبرہ بہشتی اسی لئے قائم کیا گیا کہ ہمیشہ آنے والی نسلیں وہاں جائیں اور دین کیلئے قربانی کرنے والوں کیلئے دعائیں کریں- میں امید کرتا ہوں کہ بہت سے دوست وہاں جاتے ہوں گے مگر میرا خیال ہے بہت سے اصحاب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں یہ بات بھول جاتی ہوگی کہ مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے والے سب کیلئے دعا کریں- وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر دعا کر کے واپس آ جاتے ہوں گے- مقبرہ بہشتی میں دفن کر کے کتبے لگانے کا مطلب یہی ہے کہ ان سب کیلئے دعائیں کی جائیں- باقی رہا یہ کہ دعا کس طرح کی جائے- اس کا طریق یہ ہے کہ ایک جگہ کھڑے ہو کر سب مدفون اصحاب کیلئے دعا کی جائے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر جا کر دعائیں کرنے کے متعلق بعض ہدایات بھی بیان کرتا ہوں- جس سے زیادہ محبت ہوتی ہے اس کے متعلق لوگ غلطی سے مشرکانہ رنگ اختیار کر لیتے ہیں اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ دعا کرتے وقت ایسا رنگ نہ ہو- مثلاً اس طرح مخاطب کر کے دعا نہ کرنی چاہئے کہ اے خدا کے مسیح فلاں بات ہو جائے- اگر خدا تعالیٰ مکاشفہ کرا دے تو چاہے جتنی باتیں کر لی جائیں لیکن عام حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقاصد پورے کرنے اور آپ کے درجات بلند کرنے کیلئے دعائیں کرنی چاہئیں- میں یہ دعا ہمیشہ کیا کرتا ہوں کہ ہمارے لئے حکم ہے جب رسول سے کوئی مشورہ لے تو صدقہ کرے مگر ہم ان تک کچھ پہنچا نہیں سکتے اس لئے میں جو آیا ہوں تو یہ دعا کرتا ہوں کہ الہی تو ہی ان کو ایسا روحانی تحفہ عطا کر جو پہلے عطا نہ کیا ہو- اسی طرح رسول کریم ﷺ کیلئے دعا کو پہلے رکھ لیتا ہوں- مجھے خیال آیا کرتا تھا کہ جنازہ کی نماز میں درود کیوں پڑھا جاتا ہے اس کا پہلے ایک جواب خدا تعالیٰ نے مجھے یہ سمجھایا کہ شاعر نے کہا تھا-