انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 576

۵۷۶ شمولیت کو ظلی حج کہنا کوئی ناجائز نہیں- اگر میں یہ کہتا کہ مکہ معظمہ کا حج موقوف ہو گیا اور اس کی بجائے قادیان آنا حج کا درجہ رکھتا ہے تب وہ اعتراض کر سکتے تھے- مگر مکہ معظمہ کا حج تو قائم ہے- مسئلہ حج اور حضرت مسیح موعود ؑ میں نے جب غیر مبائعین کے اعتراض کے متعلق غور کیا تو معلوم ہوا کہ مجھے غلطی لگی ہے- جو کچھ میں نے کہا وہ غلط تھا لیکن یہ غلطی اس پلڑے کے لحاظ سے نہ تھی جس میں غیر مبائعین بیٹھے ہیں‘ بلکہ دوسرے پلڑے کی تھی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئینہ کمالات اسلام میں نواب محمد علی خاں صاحب کو جو ہمارے بہنوئی ہیں‘ قادیان آنے کی تحریک کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں- ‘’لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر- کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی-’‘ ۴؎ شیخ یعقوب علی صاحب بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں آنے کو حج قرار دیا ہے- ایک واقع مجھے بھی یاد ہے- صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم شہید حج کے ارادہ سے کابل روانہ ہوئے تھے- وہ جب یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حج کرنے کے متعلق اپنے ارادہ کا اظہار کیا- اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا- اس وقت اسلام کی خدمت کی بے حد ضرورت ہے اور یہی حج ہے- چنانچہ پھر صاحبزادہ صاحب حج کے لئے نہ گئے اور یہیں رہے کیونکہ اگر وہ حج کیلئے چلے جاتے تو احمدیت نہ سیکھ سکتے- پس غیر مبائعین کا اعتراض فضول ہے- خدا تعالیٰ نے قادیان میں جو برکات رکھی ہیں اور خاص کر سالانہ جلسہ کی برکات ان کے لحاظ سے جلسہ میں شمولیت کو ایک قسم کا ظلی حج کہنا بالکل درست ہے- ذکر الہٰی اور دعاؤں کی تاکید اب میں جلسہ پر آنے والے دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے بھی کچھ آداب ہیں- دوستوں کو چاہئے ان کو مدنظر رکھیں- اس بارے میں پہلی بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں کا آنا سیر و تماشا کے