انوارالعلوم (جلد 12) — Page 575
۵۷۵ مدینہ تجویز کر لیا تو یقیناً مکہ جہاں حج ہوتا ہے‘ ہمیں دے چکے- اس وقت چونکہ ان کے خیال میں فائدہ یہ کہنے میں تھا کہ قادیان مکہ ہے تا کہ وہ لاہور کو مدینہ کہہ سکیں اس لئے انہوں نے قادیان کو مکہ کہا لیکن اب اس میں مکہ کی برکات کا ذکر کیا گیا تو اپنی ہی بات کے خلاف کہنے لگ گئے- ان کی مثال شترمرغ کی سی ہے جب اسے کہا گیا کہ آؤ تم پر بوجھ لادیں تو اس نے کہہ دیا کیا مرغ پر بھی بوجھ لادا جاتا ہے اور جب کہا گیا کہ اڑو تو اس نے کہہ دیا کیا شتر بھی اڑ سکتا ہے- جب لاہور کو مدینہ کہنے میں انہوں نے فائدہ سمجھا اس وقت قادیان کو مکہ کہہ دیا لیکن جب یہ کہا گیا کہ قادیان میں خدا تعالیٰ نے ایک قسم کے ظلی حج کی برکات رکھی ہیں تو اسے کفر قرار دینے لگ گئے- حضرت مسیح موعود کے دو شعر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو نہایت ہی لطیف اشعار ہیں- اگر انہی پر غیر مبائعین غور کرتے تو انہیں سمجھ آ جاتی- حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں- کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا حاذق طبیب پاتے ہیں‘ تم سے یہی خطاب خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا فرماتے ہیں- طبیبوں کو تم مسیح الملک کہتے ہو- پھر جسے خدا کوئی خطاب دے اس پر کیوں برا مناتے ہو- حج کو بھی شاعروں نے باندھا ہے- چنانچہ کہا گیا ہے- دل بدست آور کہ حج اکبر است کسی کا دل ہاتھ میں لینے کو حج اکبر کہا گیا ہے لیکن میں نے تو حج بھی نہیں کہا تھا بلکہ ظلی حج کہا- مگر شاعر جو کچھ کہیں اسے تو بخوشی سن لیتے ہیں لیکن میں جو بات کہوں اسے کفر اور ضلالت قرار دینے لگ جاتے ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو یہ الہام ہے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اس کے متعلق ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں نام قادیان کے ہیں- مگر غیر مبائعین مدینہ لاہور کو اور مکہ قادیان کو قرار دیتے ہیں- اسی بات پر وہ قائم رہیں تو قادیان کے جلسہ سالانہ میں