انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 566

۵۶۶ گلے پر اثر پڑتا میں آج ہی ماؤف گلے کے ساتھ یہاں آیا ہوں- میں امید کرتا ہوں کہ منتظمین جلسہ آئندہ انتظام کے سلسلہ میں عورتوں کو بھی مدنظر رکھا کریں گے اور انہیں اس طرح نذر تغافل نہ کر دیای کریں گے تا کہ اس قسم کی مشکلات ان کی جلسہ گاہ کے متعلق پیش نہ آئیں- یاد رکھنا چاہئے کہ جب عورتوں میں بیداری نہ پیدا ہو اس وقت تک مردوں کیلئے ترقی کرنا بھی مشکل ہوتا ہے- عورتوں کا ایمان بہت مستقل ہوتا ہے- اللہ تعالیٰ نے عورت کو اتنا فکر نہیں دیا جتنے جذبات دیئے ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایمان تو بڑھیا کا سا ہونا چاہئے- سارا دن دلائل دیتے رہو سب کچھ سن سنا کر کہہ دے گی وہی بات ٹھیک ہے جو میں مانتی ہوں- مومن کو بڑھیا کی طرح تو نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی بات تسلیم ہی نہ کرے لیکن اس کا ایمان ایسا ہونا چاہئے کہ کوئی چیز اسے ہلا نہ سکے- غرض عورتوں کا ایمان قابل تعریف ہوتا ہے ان میں جہالت بھی زیادہ ہوتی ہے مگر ایمان میں بھی بہت پختہ ہوتی ہیں- میں نے کئی بار سنایا ہے میراثی قوم کی ایک عورت تھی جو گانے بجانے کا کام کرتی تھی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں وہ یہاں اپنے لڑکے کو لائی جو عیسائی ہو گیا تھا اور گفتگو میں مولویوں کے منہ بند کر دیتا تھا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے نصیحت کی مگر وہ بھی کچھ ایسا پکا تھا کہ ایک دن موقع پا کر باوجودیکہ مسلول تھا رات کو بھاگ گیا- جب اس کی ماں کو پتہ لگا تو اس کے پیچھے گئی اور بٹالہ سے پکڑ کر پھر لے آئی- وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے رو رو کر کہتی کہ ایک بار اسے کلمہ پڑھا دیں‘ پھر خواہ مر ہی جائے- آخر خدا تعالیٰ نے اس کی زاری کو قبول کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس کا لڑکا مسلمان ہو گیا اور پھر مر گیا- تو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کا طبقہ یونہی نہیں بنایا- جہاں فکر‘ جرات اور بہادری کا تعلق مرد کے دماغ سے ہے‘ وہاں صبرو استقلال کا تعلق عورت کے دماغ سے ہے- یہی دیکھ لو کتنے صبر و استقلال سے عورت بچے پالتی ہے- مرد تو اس طرح کر کے دکھائے بچے ذرا شور ڈالیں تو مرد چیخ اٹھتا ہے کہ کام خراب ہو رہا ہے بچوں کو روکو مگر عورت رات دن سنتی ہے اور اس شور سے لذت حاصل کرتی ہے- غرض عورتیں مردوں کی تکمیل کا جزو ہیں بغیر ان کی تربیت کے سچائی قائم نہیں ہو سکتی- اولاد کی تربیت بھی ان کے ذمہ ہوتی ہے اگر ان کی اپنی تربیت ہی نہ ہو تو اولاد کی کیا کر سکیں گی ان کیلئے جلسہ گاہ کو بھی ہر سال وسیع کیا جایا کرے-