انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 565

۵۶۵ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم بعض اہم اور ضروری امور (تقریر فرمودہ ۲۷- دسمبر ۱۹۳۲ء برموقع جلسہ سالانہ) تشہدّ‘ تعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: عورتوں کیلئے ناکافی جلسہ گاہ آج میرا گلا قریباً پہلے ہی دن بیٹھ گیا ہے کیونکہ ہمارے منتظمین نے عورتوں کی جلسہ گاہ اس دفعہ بڑھائی نہیں تھی اور جس قدر خواتین آئیں ان کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت قریباً ڈیوڑھی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ جب میں تقریر کرنے کیلئے جلسہ گاہ میں پہنچا تو اس میں تل دھرنے کی بھی جگہ باقی نہ تھی اور سینکڑوں عورتیں باہر کھڑی تھیں- میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح خواتین سمٹ کر بیٹھ جائیں تا کہ باقی خواتین کیلئے جگہ نکل سکے مگر تمام کوشش کرنے کے باوجود اتنی جگہ نہ نکل سکی کہ سب خواتین سما سکیں اور سینکڑوں ہی باہر کھڑی رہیں حالانکہ اردگرد کے مکانات کی چھتیں بھی عورتوں سے پر ہو چکی تھیں- آخر آدھ گھنٹہ کی جدوجہد کے بعد میں نے سوچا اب ایک ہی تجویز ہے جس پر عمل کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ قادیان کی جتنی خواتین ہیں وہ جلسہ سے چلی جائیں اور اپنی جگہ باہر سے آنے والی خواتین کو دے دیں- اس پر قادیان کی عورتوں کو جن کی تعداد کئی سو تھی جلسہ گاہ سے نکال کر مہمان خواتین کو جگہ دی گئی تب بھی خواتین بمشکل سما سکیں نتیجہ یہ ہوا کہ اس افراتفری میں بہت شور پڑ گیا- عورتیں باوجود سمجھانے کے بچوں کو ساتھ لے آئیں ہیں اور مہمان عورتوں کیلئے مشکل بھی ہے کہ اپنے بچوں کو کہاں چھوڑیں اس لئے انہیں ساتھ لانے ہی پڑتے ہیں- جب عورتیں جلسہ گاہ میں جگہ کی گنجائش نکالنے کیلئے کھڑی ہوئیں تو بچے رونے لگ گئے ان کے ساتھ عورتوں کے چیخنے چلانے کا شور بھی مل گیا اور پھر یہ شور بند نہ ہوا اس وجہ سے تقریر کرتے ہوئے مجھے بھی بہت چیخنا پڑا اس لئے بجائے اس کہ کل میرے