انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 545

انوار العلوم جلد ۱۳ ولده افتتاحی خطاب جلسه سانانه ۱۹۳۲ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۳۲ء فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۳۲ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ برادران بهترین افتتاحیه تو وہی ہے جس سے خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کو شروع کیا اور جس کا نام خود اس نے سورۃ فاتحہ رکھا۔ اس سے بہتر کوئی افتتاحی کلام نہیں ہو سکتا اور اس سے بہتر کوئی جامع دعا نہیں ہو سکتی۔ اس کے مطالب اتنے وسیع اور اس کے اندر مخفی اسرار اتنے لا تعداد ہیں کہ انسانی ذہن ان کا اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔ وہ ابدالآباد تک کی ترقیات جو بہتر سے بہتر انسان کیلئے نبیوں کیلئے ہی نہیں بلکہ نبیوں کے سردار کیلئے مقرر ہیں ، وہ بھی اس سورۃ فاتحہ کے اندر آ جاتی ہیں۔ کیونکہ انسانی سلوک کے انتہائی منازل اور ان کے متعلق ضروری ہدایات ساری کی ساری ان مختصری سات آیات میں اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہیں۔ پس سورہ فاتحہ کو میں اس جلسہ کے افتتاح کیلئے پڑھتا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اف افتتاحیہ جو اس کی طرف سے عطا ہوا ہے، اس کے اندر جو ضروری ہدایات ہمارے متعلق ہیں ، ان کو پورا کرنے کی ہمیں توفیق دے اور ان کے جواب میں جو اہم وعدے ہیں۔ اس کا فضل محض رحم رحمت سے وہ وعدے رے پورے پورے کر دے ہم لوگ جس بے سرو سامانی کے ساتھ آج کل اس جگہ پر جمع ہوتے ہیں، دنیا داروں کی نگاہوں میں وہ ترقی کی علامت نہیں۔ ہمارے کمروں اور جلسہ گاہ میں بچھی ہوئی کسیر کو دیکھ کر ہمارے کھلے ہوئے سٹیج کو دیکھ کر ہمارے ان شہتیروں کو دیکھ کر جن کا نام ہم بیچ رکھ لیتے ہیں۔ وہ ہم پر مسکراتے اور کہتے ہیں ، یہ ہے وہ جماعت جو دنہ دنیا کو خدا کیلئے فتح کرنے کیلئے کھڑی ہوئی ہے۔ مگر ہماری حالت کے متعلق ان کی نسی ویسی ہے جیسی عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے ساتھ