انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 10

۱۰ ناقابل بوڑھوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لئے ہم اس تعداد کو دس گنا زیادہ کر لیتے ہیں کیونکہ یہ ایک عاماندازہ ہے کہ چھ فیصدی سے لے کر دس فیصدی تک ملک کی آبادی جنگی خدمت کے قابل ہوتی ہے- ہم خیال کر لیتے ہیں کہ بنیاسرائیل میں سختی سے جنگی خدمت لی جاتی تھی اور کل تعداد بنی اسرائیل کی جنگی سپاہیوں سے صرف دس گنی تھی- یعنی ۶۰ لاکھ- مگر عقل اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ بنی اسرائیل ساٹھ لاکھ تھے کیونکہ اتنے آدمی مصر سے اتنے قلیل عرصہ میں نکل ہی نہیں سکتے- پھر یردن پار کی بستی جس میں آ کر وہ بسے ہیں‘ اس قدر آبادی کی حامل نہیں ہو سکتی- فلسطین کی آبادی کا اندازہ ۱۹۲۶ء میں آٹھ لاکھ باون ہزار دو سو اڑسٹھ تھا-۴؎ اس ملک کا کل رقبہ ۹ ہزار مربع میل ہے- یعنی پنجاب کے کل رقبہ کا قریباً چودھواں حصہ اور پھر اس کا ایک بڑا حصہ ناقابل سکونت ہے‘ صرف ریت کے میدان ہیں جنہیں آباد نہیں کیا جا سکتا- پس اس ملک میں جو پہلے سے آباد تھا‘ ساٹھ لاکھ آدمیوں کا آ کر بس جانا بالکل خلاف عقل ہے- ایک اور دلیل سے بھی یہ امر خلاف عقل معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل ساٹھ لاکھ تو درکنار چند لاکھ بھی ہوں اور وہ اس طرح کہ حضرت اسحٰق کی پیدائش سے لے کر حضرت یعقوب کے مصر میں داخل ہونے تک تقریباً دو سو سال کا عرصہ بائیبل کے مطابق گزرا ہے- اس عرصہ میں حضرت ابراہیم کی نسل کے افراد بارہ تک پہنچے ہیں- عیسو کی اولاد کو بھی اگر اسی قدر فرض کر لیا جائے تو دو سو سال میں چوبیس افراد تک ان کی نسل پہنچی ہے- اس کے بعد مصر سے نکلنے کے زمانہ تک دو سو سال گزرے ہیں- پس عام اندازہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں کی نسل اس دو سو سال میں چھ سات سو افراد تک پہنچ گئی ہوگی لیکن اگر ہم یہ بھی فرض کر لیں کہ وہ بہت شادیاں کرتے تھے اور اولاد زیادہ ہوتی تھی جب بھی پندرہ بیس ہزار سے زائد تو کسی صورت میں ان کی تعداد نہیں ہو سکتی اور اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ بنیاسرائیل اپنے سفر کے دوران میں معمولی شہر کے آدمیوں سے بھی ڈرتے تھے اور ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے یہ امر یقینی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دو اڑھائیہزار سپاہیوں سے زائد نہ تھے- اس اندازہ کے ماتحت من کی وہ مقدار جو بنی اسرائیل کے لئے ضروری ہوتی ہو گی بہت کم رہ جاتی ہے- لیکن یہ سوال پھر بھی باقی رہ جاتا ہے کہ کیا بنیاسرائیل من پر گزارہ کر سکتے تھے- من جیسا کہ بتایا جا چکا ہے ایک گوند ہے جو ہے بھی مسہل- اس غذا پر انسان چند دن سے زائد گزارہ نہیں کر سکتا- پھر بنی اسرائیل