انوارالعلوم (جلد 12) — Page 9
۹ میں یہ چیز جواسے کے درخت سے نکالی جاتی ہے- لاطینی میں اسے ‘’منا’‘ کہتے ہیں اور اس چیز کی ماہیت پوری طرح طبی کتب میں بھی درج ہے- انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا میں بھی درج ہے- چنانچہ اسے پروفیسر نعیم الرحمن صاحب نے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے اس لئے میں اس مضمون کو چھوڑتا ہوں- ہاں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یورپی سیاحوں نے شہادت دی ہے کہ اب تک اس علاقہ میں من ملتا ہے گو وہ شبنم کے ساتھ نہیں گرتا بلکہ ٹیمرکسگیلیکا نامی درخت کا رس ہوتا ہے- جس کی چھال کو جب ایک کیڑا جسے اب گاسپیریامینیفیرا کہتے ہیں چھیدتا ہے تو اس سے یہ رس ٹپکتا ہے بغیر کیڑے کے انسانی ہاتھوں سے درخت کی چھال میں شگاف کرنے سے بھی یہ رس گر کر جم جاتا ہے اور مختلف ممالک میں اس درخت سے مختلف طریقوں سے رس کو جمع کیا جاتا ہے- سسلی اور خراسان کا من مشہور ہے- ہندوستان میں بھی جواسے کے درخت سے وید من بناتے ہیں- مصر سے مصنوعی من بنا ہوا آتا ہے لیکن اطباء اسے پہچان لیتے ہیں- بزمارڈٹ جرمن سیاح کا بیان ہے کہ سینا میں موجودہ درختوں کی تعداد کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سالانہ اڑھائی تین سو سیر تک من تیار ہو سکتا ہے مگر خیال کیا جاتا ہے کہ پہلے زمانہ میں جنگل زیادہ وسیع ہوتا تھا اور اس سے بہت زیادہ من تیار ہو سکتا تھا- لیکن جیسا کہ پروفیسر نعیم الرحمن صاحب نے لکھا ہے بائیبل میں بنیاسرائیل کی جو تعداد لکھی ہے اس کے مطابق انہیں روزانہ چھبیس ہزار سات سو پچاس من کے قریب من کی ضرورت ہوتی ہوگی اور سالانہ ایک کروڑ من کے قریب- لیکن چھ سات سو من سالانہ جو اب وہاں پیدا ہوتا ہے اور ایک کروڑ من جس کی انہیں ضرورت ہوتی تھی‘ ان دونوں اندازوں میں اس قدر فرق ہے کہ خواہ قوت واہمہ کو کتنا ہی آزاد چھوڑ دیا جائے‘ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ کسی زمانہ میں اس علاقہ میں اس قدر جنگل تھا کہ ایک کروڑ من من پیدا ہو جاتا تھا- خصوصاً جب ہم اس امر کو مدنظر رکھیں کہ اس علاقہ کا اکثر حصہ ایسا ہے کہ اس میں درخت پیدا ہی نہیں ہو سکتے- ایک حل تو اس مشکل کا یہ ہے کہ ہم سمجھ لیں کہ بائیبل میں جو تعداد بنی اسرائیل کی لکھی ہے‘ وہ مبالغہ آمیز نہیں ہے- گنتی باب ۱‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے بیس سال سے زائد عمر سے لڑنے کے قابل مردوں کی تعداد بارہویں قبیلہ کو چھوڑ کر جن کی گنتی نہیں کی گئی چھ لاکھ تین ہزار اور پانچ سو پچاس تھی اگر بارہویں قبیلہ کا اندازہ کر لیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ کل لڑنے کے قابل مرد ساڑھے چھ لاکھ تھے- عورتوں بچوں اور جنگ کے