انوارالعلوم (جلد 12) — Page 8
۸ کیلئے اور ’’من‘‘ ذی روح کے لئے استعمال ہوتا ہے اور پھر اس علم کی روشنی میں بائیبل کے الفاظ کو دیکھتے تو ان پر واضح ہو جاتا کہ یہی قاعدہ بائیبل کی عبرانی میں بھی مدنظر رکھا گیا ہے اور اس طرح اس لغزش سے بچ جاتے- مگر اتنی تعریف ان کی ضرور کرنی پڑتی ہے کہ انہوں نے یہ فرق ضرور محسوس کیا ہے کہ من کا لفظ سوال کے معنوں میں جلاوطنی کے زمانہ اور اس کے بعد استعمال ہوا ہے- ۳؎ پہلے نہیں اور اس کی بناء پر بعض نے من کے معنے استفہام کے سوا کچھ اور لینے کی کوشش کی ہے- چنانچہ جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں‘ جارج ایبرز نے اس لفظ کو قبطی لفظ ‘’منو’‘ سے ماخوذ قرار دیا- جس کے معنی خوراک کے ہیں- اسی طرح Jesenius نے اپنی لغت میں من کی وجہ تسمیہ عربی لفظ من سے بیان کی ہے- جس کے معنی فضل اور احسان کے ہیں- اس مصنف کے خیال کے مطابق اس چیز کا نام من اس لئے رکھا گیا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوئی تھی اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ وجہ زیادہ قرین قیاس ہے- اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ من کیا چیز تھی؟ جیسا کہ پروفیسر نعیم الرحمن صاحب نے کہا ہے بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شبنم کے ساتھ گرتی تھی اور سفید سفید گول دھنیے کے بیجوں کی طرح ہوتی تھی اور لوگ اسے چکی میں پیس کر یا اوکھلی میں کوٹ کر توے پر پکاتے تھے یا پھلکیاں بناتے تھے اور اس کا مزا تازہ تیل کا سا تھا- جب دھوپ نکل آتی- تو من پگھل جایا کرتا تھا- خروج باب۱۶ آیت۱۴ و گنتی باب۱۱ آیت۷- یہ چیز سبت کے دن نہیں گرتی تھی اور اگر لوگ جمع کرتے تھے تو سٹر جاتی تھی- سوائے سبت کے دن کے جو اس کے لئے جمع رکھی جاتی تھی وہ نہ سٹرتی تھی- یہ من برابر اڑتیس سال تک بنی اسرائیل پر نازل ہوتا رہا- گنتی باب ۲۱ اور اس وقت بند ہوا جب انہوں نے موجودہ زمین میں قدم رکھا اور وہاں کا دانہ کھایا- یشوع باب۵ آیت۱۲- اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی ایسی چیز ہے جو بائیبل کی بیان کردہ صفات کے مطابق ہو اور سینا مقام میں پائی جاتی ہو؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر معجزانہ امور کو نظر انداز کر دیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فی الواقعہ ایک ایسی چیز سینا کے علاقہ میں پائی جاتی ہے جو شبنم کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے اور دھوپ کی گرمی میں پگھل جاتی ہے اور تیل سا اس کا مزا ہوتا ہے اور سفید رنگ کی ہوتی ہے- جس کی ایک قسم کو ہمارے ملک میں شیر خشت کہتے ہیں اور دوسری کو ترنجبین اور ہندی میں اسے یورس- شرط کڑا یعنی جواسے کی شکر کہتے ہیں- کیونکہ ہندوستان