انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 488

۴۸۸ راؤنڈٹیبل کانفرنس اور مسلمان فیصلہ پر غور کرنے کی ضرورت ہو اس عرصہ تک مرکزی اختیارات اور مرکزی اور صوبہ جاتی تعلقات کے سوالوں کا فیصلہ ملتوی رکھا جائے- دوسرا طریق یہ ہے کہ راؤنڈٹیبل کانفرنس کی سب کمیٹی کے مسلمان ممبر ہی اس مطالبہ کو پیش کر دیں- اگر حکومت مطالبہ منظور نہ کرے چونکہ ضروری نہیں کہ ہمارے اس مطالبہ کو حکومت تسلیم کر لے اس لئے ہمیں اس صورت حالات کا علاج بھی سوچ لینا چاہئے- میری رائے میں اگر حکومت اس مطالبہ کو منظور نہ کرے اور مسلمانوں کے مطالبات کے متعلق اپنا قطعی فیصلہ شائع نہ کرے جس سے ہمیں یہ معلوم ہو سکے کہ وہ اصطلاحات جن کے پردہ میں ہم سے وعدے کئے گئے ہیں ان کے اصلی معنی کیا ہیں- تو اس صورت میں مسلمان ممبران راؤنڈٹیبل کانفرنس کو سب کمیٹیوں میں شامل تو ہونا چاہئے تاکہ تعاون کا دروازہ کھلا رہے اور تا ایسے مواقع جن میں مشورہ میں شامل ہونا مفید ہو سکتا ہو ہاتھ سے نہ جاتے رہیں لیکن جب بھی کوئی سوال مرکزی اختیارات کے متعلق یا مرکز اور صوبہ جات کے تعلق کے متعلق آئے انہیں کہہ دینا چاہئے کہ چونکہ ہمارے حقوق کا تصفیہ نہیں ہوا‘ ہم اس بحث میں حصہ نہیں لینا چاہتے- اس امر کی روزانہ تکرار بائیکاٹ سے یقینی زیادہ مفید ثابت ہو گی اور چند ہی دنوں میں حکومت اس امر کی ضرورت محسوس کرنے لگے گی کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کے متعلق اپنا فیصلہ سنا دے- بائیکاٹ میں ایک بہت بڑا نقص بائیکاٹ میں علاوہ مذکورہ بالا نقائص کے یہ نقص بھی ہے کہ حکومت وفادار ممبروں کی جگہ ایسے غدار ممبر مقرر کر سکتی ہے جو مسلمانوں کے مفاد کو بالکل ہی نظر انداز کر دیں- پس اگر موجودہ مسلمان ممبر مذکورہ بالا طریق پر اپنی وفاداری کا ثبوت دیں تو ان کا ممبر رہنا مسلمانوں کیلئے ان کے علیحدہ ہونے سے بدرجہا بہتر ہو گا- سارے ہندوستان میں جلسے منعقد کئے جائیں ایک اور امر بھی میرے نزدیک ضروری ہے اور وہ یہ کہ ایک خاص دن مقرر کر کے سارے ہندوستان میں مسلمان جلسے کر کے اس امر کے ریزولیشن پاس کریں کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت مسلمانوں کے حقوق کے متعلق اپنا آخری فیصلہ شائع کرے- پس