انوارالعلوم (جلد 12) — Page 484
۴۸۴ راؤنڈٹیبل کانفرنس اور مسلمان وائسرائے کی صدارت میں دہلی میں منعقد ہو رہی ہے اب اس کے متعلق بھی مسلمانوں میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا اس میں شمولیت مسلمانوں کیلئے مفید ہو سکتی ہے؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہمیں اسے بائیکاٹ کرنا چاہئے- بعض دوسروں کے نزدیک ہمیں اس سے پوری طرح تعاون کرنا چاہئے- اول الذکر کے دلائل مجھے معلوم ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جب تک ہمارے حقوق کا فیصلہ نہیں ہوتا مرکزی حکومت کے اختیارات پر بحث کرنے سے ہم ایک رنگ میں اس کے قیام میں ممد ہوتے ہیں اور اس طرح خود اپنے ہاتھ کاٹ لیتے ہیں- دوسرے گروہ کا خیال غالباً اس امر پر مبنی ہے کہ اس وقت جب کہ ہندو حکومت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں ہمارا حکومت سے تعاون اچھے نتیجے پیدا کرے گا اور انگریزوں اور مسلمانوں میں اچھے تعلقات پیدا کر دے گا- میں ان دونوں گروہوں کو نیک نیت اور مسلمانوں کا خیر خواہ سمجھتا ہوں- لیکن میرے نزدیک یہ دونوں گروہ غلطی پر ہیں اور اس نازک موقع پر ہمیں اس سے زیادہ غور اور فکر کی ضرورت ہے جس قدر کہ اس وقت مسلمان کر رہے ہیں- ہمیں اس امر کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستان کی تاریخ قریب میں مسلمانوں کے حقوق کے طے کرنے کا موقع دوبارہ نہیں آئے گا اور یہ کہ اگر ہم آج غلطی کر بیٹھے تو ہماری اولادوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور گو ہم اپنے آپ کو قربان کرنے کو تیار ہوں‘ ہمیں کوئی حق حاصل نہیں کہ اپنی اولادوں کو قربان کر کے غلامی کے طوقوں میں جکڑ دیں- یقیناً اس سے زیادہ بدقسمت انسان ملنا مشکل ہو گا جس کی اپنی اولاد یا جس کے آباء کی اولاد اس پر لعنت کرے اور اسے اپنی ذلت کا موجب قرار دے- مسلمانان ہندو کے حقوق کی اہمیت ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا سوال چار ہزار آدمیوں کا سوال نہیں بلکہ آٹھ نو کروڑ آدمیوں کا سوال ہے- اور پھر صرف ہندوستان کے مسلمانوں کا سوال نہیں بلکہ کل دنیا کے مسلمانوں کا سوال ہے کیونکہ اس وقت دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ بیداری ہندوستان کے مسلمانوں میں ہی ہے اور ان کی موت سے عالم اسلام کی سیاسی موت اور ان کی زندگی سے عالم اسلام کی سیاسی زندگی وابستہ ہے- کیا اس قدر عظیم الشان ذمہ واری کی طرف سے ہم لا پرواہی کر سکتے ہیں- اسلام تو کیا اگر ہم میں انسانیت کا ایک خفیف سا اثر بھی باقی ہے تو ہم ایسا نہیں کر سکتے-