انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 5

انوا را معلوم چند ۱۳ بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے من کی حقیقت میری غرض اس واقعہ کے ذکر سے یہ ہے کہ دشت سینا بنی اسرائیل اور دشت سینا ایک ایسا خطرناک علاقہ ہے کہ بڑی جماعتوں کے لئے بھی بغیر خاص انتظام کے اس میں سے گزرنا مشکل ہے اور اس میں قیام کرنا تو اور بھی مصیبت ہے۔ پھر بنی اسرائیل میں جن کے ہیں سال سے زائد کے جوانوں میں سے جنگی خدمت کے قابل مردوں کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے اور جو بے سرو سامانی کی حالت میں مصر سے بھاگے تھے اس علاقہ میں سے کس طرح گزرے اور کس طرح اڑتیس سال تک اس علاقہ میں انہوں نے بسر کیا۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو صدیوں سے دنیا کو حیرت میں ڈال رہا ہے۔ بائیبل نے اس کا جواب من کے نزول اور حورب کی چٹان میں بارہ چشموں کے پھوٹنے کے معجزہ سے دیا ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس مظلوم قوم کی خدا تعالٰی نے مدد کی اور اپنے فضل سے اس نے ان کے لئے کھانے اور پینے کا سامان مہیا کیا۔ میں اِس وقت پانی کی تحقیق کو چھوڑتا ہوں اور من کی تحقیق کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ اس کی حقیقت زیر بحث ہے۔ بائیبل کا بیان پڑھنے کے بعد طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ :۔ (1) من کیا چیز تھی؟ (۲) کیا اس کا وجود معجزانہ تھا؟ (۳) کیا بنی اسرائیل اسے کھا کر ایک طویل مدت تک زندگی بسر کر سکتے تھے ؟ پہلے سوال کا جواب دیتے وقت خود بخود یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس غذا کو من کا نام بنی اسرائیل نے دیا تھا یا یا تھا یا پہلے سے اس کا یہ نام تھا اگر بنی اسرائیل نے اسے اس نام سے پکارا تو کیوں؟ کیا اس غذا کی اندرونی خاصیت کی وجہ سے یا کسی اور دوسری وجہ سے خروج باب ۱۶ آیت ۱۵ میں " من " کا سب سے پہلے ذکر ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ جب بنی اسرائیل ایلیم روانہ ہوئے تو راستہ میں خوراک نہ ملنے کے سبب انہوں نے شور مچایا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان سے گوشت اور روٹی کا وعدہ کیا۔ شام کو بے شمار بشیر جنگل میں آگئے۔ جنہیں پکڑ کر انہوں نے گوشت کھایا اور صبح کے وقت ایک چیز زمین پر پڑی ملی۔ جو چھوٹی چھوٹی سفید رنگ کی تھی۔ جسے دیکھ کر بنی اسرائیل نے آپس میں کہا یہ من ہے؟ کیونکہ انہوں نے نہ جانا کہ وہ کیا ہے۔ اس پر موسیٰ نے ان سے کہا۔ یہ روٹی ہے جو خدا نے کھانے کو تم کو دی ہے۔ اس آیت کی بناء پر بعض لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ "من" کا لفظ اس جگہ بطور استفہام استعمال ہوا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کیا چیز ہے۔ بعد میں یہی لفظ نام کے طور پر