انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 462

أنوار العلوم جلد ۱۲ فضائل القرآن (۴) فرماتا ہے اُولئِكَ لَمْ يَكُونُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ يُضْعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ أُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ لا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ۔ اک یعنی لوگ کہتے ہیں کہ یہ نبی جھوٹ پیش کرتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا جھو ۔ کا جھوٹ بنانے والے تو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوتے ہیں۔ اور وہ عذاب سے ہر گز بیچ نہیں سکتے۔ ان کا عذاب لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جاتا ہے اور وہ بچی بات سننے کی بھی طاقت نہیں رکھتے کجا یہ کہ وہ سچی باتیں خود بنا سکیں۔ وہ عذاب سے گھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور جب دنیا میں ان کا یہ حال ہوتا ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہو گا۔ اس میں بتایا کہ مفتریوں کی تو یہ علامت ہوتی ہے کہ ان پر عذاب نازل ہوتا ہے مگر محمد رسول اللہ میں اللہ پر تو کوئی عذاب نہیں آیا بلکہ خدا نے اس کی مدد کی ہے۔ دوسری علامت مفتری کی یہ ہوتی ہے کہ اس کا عذاب بڑھتا جاتا ہے۔ مگر اس رسول کی تو ہر گھڑی پہلی سے اچھی ہے۔ (۳) پھر مفتری کو اپنی تعلیم بدلنی پڑتی ہے۔ مگر کیا اس نے بھی کبھی قرآن کی کوئی بات بدلی پھر یہ مفتری کس طرح ہو سکتا ہے۔ دوسرا الزام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وَجَدَكَ ضَا ضالاً فَهَدَی کا صحیح مفہوم لگایا گیا ہے کہ آپ نعوذ باللہ نبوت سے پہلے ضال تھے۔ اور بعد میں بھی گناہ آپ سے سرزد ہوتے رہے۔ ان الزامات کی بنا خود قرآن کریم ہی کی بعض آیات کو قرار دیا گیا ہے۔ مال کے متعلق تو یہ آیت پیش کی جاتی ہے کہ وَوَجَدَكَ ضَالاً فَهَدَی دی ہم نے تجھے نال پایا پھر ہدایت دی۔ اس کا جواب قرآن ۵ کریم کی ایک دوسری آیت ہے جس میں اللہ تعالی نے آپ سے ضلالت کی کلی طور پر نفی کر دی ہے ۔ فرماتا ہے۔ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوْى - ٦ ه ہم نجم کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ نجم اس بوٹی کو کہتے ہیں جس کی جڑ نہ ہو۔ فرمایا۔ ہم اس بوٹی کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کی جڑ نہیں ہوتی۔ جب کہ وہ گر جاتی ہے۔ یعنی وہ جتنا اونچا ہونا چاہتی ہے اس قدر گرتی ہے۔ اس شہادت سے تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہارا یہ صاحب کبھی گمراہ نہیں ہوا اور نہ راستہ سے دور ہوا۔ ضل ظاہری گمراہی کے لئے آتا ہے اور