انوارالعلوم (جلد 12) — Page 460
انوار العلوم جلد ۱۲ ۴۶۰ فضائل القرآن (۴) ہو گا کیونکہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ صدقہ و خیرات اور مرد و عورت کے تعلقات کے متعلق تفصیلی احکام گذشتہ سال کے مضمون میں بیان کر چکا ہوں۔ اور بتا چکا ہوں کہ پہلی کتب میں ان امور کے متعلق صرف مختصر احکام دیئے گئے ہیں۔ مگر قرآن کریم نے ہر ایک حکم کی غرض اور اس کے استعمال کی حدود وغیرہ تفصیل سے بیان کی ہیں۔ قرآن کریم کی چوتھی خصوصیت یہ بیان کی کہ لا رَيْبَ دلائل و براہین سے مزین کلام فيه ہر ایک امر کو دلیل سے بیان کرتا ہے اور شک کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ شک ہمیشہ ابہام سے پیدا ہوتا ہے۔ مگر قرآن کریم کے دعوؤں کی بنیاد < وقدر مشاہدہ پر ہے۔ قرآن میں ہستی باری تعالیٰ ملائکہ دعا نبوت نبوت انبیاء کی ضرورت قضاء وق حشر و نشر جنت و دوزخ نماز و روزہ حج و زکوۃ اور معاملات وغیرہ کے متعلق دلائل بیان کئے گئے ہیں۔ یونہی دعوے نہیں کئے گئے۔ مثلاً جنت کے متعلق آتا ہے۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ 19 ہم یہ نہیں کہتے کہ مرنے کے بعد تمہیں جنت ملے گی۔ اور تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مرنے کے بعد کیا معلوم جنت ملے گی یا نہیں۔ قرآن اسی دنیا میں جنت کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ اور مومنوں کو اسی دنیا میں جنت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کا ثبوت یہ دیا کہ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ - حه یعنی وہ لوگ لوگ جو یہ و یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر استقامت سے اسلام کی تعلیم پر قائم رہتے ہیں۔ ان پر فرشتے اترتے ہیں جو انہیں کہتے ہیں کہ تم غم نہ کرو۔ تم کو جنت کی بشارت ہو ۔ گویا اسی دنیا میں انہیں خدا سے کلام کرنے کا شرف حاصل ہو جاتا ہے اور جب خدا کا کلام مل گیا تو ریب کہاں رہ گیا۔ پانچویں بات یہ بیان فرمائی قرآن کریم کے ذریعہ صفت رَبُّ الْعَلَمِينَ کا ظہور کہ قرآن کریم کا اس حالت میں نزول ہوا کہ اس سے رَبُّ الْعَلَمِینَ کی صفت کا ظہور ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس میں ہر فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ بعض انسانوں میں غصہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ انہیں عفو کی طرف توجہ دلائی جائے بعض میں دیوٹی اور بے غیرتی ہوتی ہے انہیں غیرت کی تعلیم دی گئی۔ انجیل نے اس کا خیال نہیں رکھا اس نے ہر حال میں عفو کی تعلیم دی ہے اور تورات نے